ویب ڈیسک: لیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ایسے افراد کی فہرست مرتب کرنا شروع کر دی ہے جو معاہدے سے زائد پینل لگا کر زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ گرین میٹرز کی چیکنگ کے لئے خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی نئی پالیسی کے تحت ایسے افراد کو پابند کرنے کے لیے کہ وہ سولر سے اتنی ہی بجلی پیدا کریں جتنی کی منظوری انہوں نے لے رکھی ہے، باقاعدہ طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔ جہاں تمام گرین میٹرز کی جانچ علیحدہ سے ٹیمیں کریں گی۔ یعنی اگر کسی صارف نے 10 کلو واٹ کا سسٹم لگانے کا معاہدہ کر کے گرین میٹر لگوایا ہے تو وہ اس سے زائد بجلی پیدا نہیں کر سکتا۔
یادرہے پاکستان میں وفاقی حکومت نے نئی سولر پالیسی کے تحت پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے اور اب صارفین 10 روپے یونٹ کے حساب سے سرکار کو بجلی فروخت کر سکیں گے۔تاہم یہ حکومتی سولر پالیسی کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس میں مزید اور بڑی تبدیلیا ں بھی کی گئی ہیں۔
پنجاب کی سب سے بڑی بجلی کی تقسیم کار کمپنی لیسکو نے ان افراد کی فہرستیں تیار کی ہیں جو معاہدے سے زیادہ بجلی بنا رہے ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ سولر کی بجلی کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ لوگ غیر قانونی طور پر زیادہ پینل لگائیں گے۔
سولر سسٹمز کی مارکیٹ کریش کرگئی
اس صورت حال کے باعث مارکیٹ میں سولر سسٹمز کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ کیونکہ اب لوگوں کو لگ رہا ہے کہ شاید سولر سے بجلی پیدا کرنا کوئی زیادہ منافع بخش نہیں رہا۔ گذشتہ ایک ہفتے سے مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمت میں 2 روپے فی واٹ کے حساب سے کمی واقع ہوئی ہے۔
5 کلو واٹ کے سسٹم کی مارکیٹ میں قیمت 5لاکھ پچاس ہزار روپے پر آ گئی ہے۔ جبکہ آن گریڈ سسٹم پر سات کلوواٹ کا سسٹم 6 لاکھ پچیس ہزار روپے ہو گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پانچ سے پندرہ کلو واٹ کے سسٹمز پر پینتیس ہزار سے ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پنجاب کو توانائی کے معاملے میں خودکفیل بنانے کی تیاریاں
دوسری جانب پنجاب کو توانائی کے معاملے میں خودکفیل بنانے کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں،پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایجنسی ایکٹ 2025 پنجاب اسمبلی پیش کردیا گیا۔نئی بننے والی ایجنسی کی تفصیلات پبلک نیوز نے حاصل کر لی ہے۔ایجنسی پنجاب میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کام کرے گی۔ایجنسی وفاق کے نیکا ایکٹ کے طرز کی طرح اپنے کام سر انجام دے گی۔
ایجنسی کو صنعتوں، تجارتی مراکز اور سرکاری عمارتوں کا توانائی آڈٹ کرانے کا اختیار ہوگا،آڈٹ کا مقصد ضائع ہونے والی توانائی کی نشاندہی کرنا ہے۔صنعتوں کو پِیک آورز میں پیداوار کی شیڈولنگ کی ہدایات جاری کی جائیں گی،خلاف ورزی پر 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
ایجنسی شمسی توانائی کے پراجیکٹس کو تیز رفتاری سے فعال بھی کرے گی،صنعتوں میں انرجی مینجمنٹ سسٹمز متعارف کرائے جائیں گے،جو بجلی کے استعمال کو خودکار طریقے سے کنٹرول کریں گے۔ لاہور، راولپنڈی اور ملتان سمیت بڑے شہروں میں ریئل ٹائم انرجی کنزیومپشن مانیٹرنگ کا نظام نصب کیا جائے گا۔
ایجنسی فنڈ کے ذریعے توانائی کے متبادل ذرائع کی تنصیب اور پرانی ٹیکنالوجیز کو اپ گریڈ کرنے میں کام کرے گی،غریب صارفین کو انرجی ایفیشنٹ آلات خریدنے میں سبسڈی دی جائیں گی،ایجنسی شہریوں کو توانائی بچت کے جدید طریقوں سے روشناس کرانے کے لیے میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے مہمات چلائے گی،صنعتوں اور دیہاتوں میں مفت تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا۔
کسانوں کو سولر پمپس اور توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی تربیت دی جائے گی،ایجنسی پہلے اجلاس میں 5 سال کا پلان ترتیب دے گی، بل کے تحت نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پایا جائیں گا بلکہ پنجاب کو توانائی کے معاملے میں خودکفیل بنانے کی طرف بھی قدم بڑھائے گی،بل پنجاب اسمبلی میں متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا ہے،کمیٹی 2 ماہ تک رپورٹ پیش کرے گی۔