ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پرجان ایف کینیڈی کے قتل سےمتعلق خفیہ دستاویزات جاری

ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پرجان ایف کینیڈی کے قتل سےمتعلق خفیہ دستاویزات جاری
کیپشن: ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پرجان ایف کینیڈی کے قتل سےمتعلق خفیہ دستاویزات جاری

ویب ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور وعدہ پورا۔۔۔۔مقتول امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے پراسرار قتل کی تفتیش کی 80 ہزار خفیہ دستاویزات جاری کردی گئیں۔ 

یادرہے جنوری میں حلف اٹھانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر  کے ذریعے جان ایف کینیڈی، ان کے بھائی اور صدارتی امیدوار سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی، اور شہری حقوق کے آئیکن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق مکمل تفتیشی   ریکارڈ جاری کرنے کاحکم دیا تھا ۔

ابھی تک کی تفتیش کے مطابق صدر جان ایف کینیڈی کا قاتل لی ہاروی اوسوالڈ  کو ہی قراردیاجاتا ہے جس نے 22 نومبر 1963 کو جان ایف کینیڈی کے موٹرقافلے پر اسنائپر گن سے نشانہ بنایا تھا۔

لیکن اس وقت شہریوں کی مایوسی کی انتہا نہیں رہی جب انہوں نے دیکھا کہ زیادہ تر فائلیں دستاویزات کے اسکین ہیں اور کچھ دھندلی یا اتنی خستہ حالت میں ہیں کہ انہیں پڑھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اسی طرح 1960 کی دہائی کی تصاویر اور آڈیو ریکارڈنگ  بھی جاری کی گئی ہے جس کی کوالٹی اتنی بہتر نہیں۔

 کیا مبینہ قاتل لی ہاروی اوسوالڈ کے جی بی کا ایجنٹ تھا؟

20 نومبر 1991 کی ایک دستاویز امریکی انٹیلی جنس ایجنسی نے لی ہاروی اوسوالڈ، اس کی روسی بیوی کے ساتھ طوفانی عشق اور اس کی خراب نشانہ بازی کے بارے میں  مرتب کی۔ 

جس میں کہا گیا ہے کہ نیکونوف نامی KGB کے ایک اہلکار نے اس وقت کی سوویت سیکورٹی سروس KGB کی فائلوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اوسوالڈ "KGB کا ایجنٹ تھا۔"

دستاویز میں E.B. نامی ایک امریکی پروفیسر کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اسمتھ نے بتایا کہ اس نے ماسکو میں اوسوالڈ کے بارے میں KGB کے اہلکار نیکونوف سے بات کی تھی۔

لی ہاروی اوسوالڈ کے نظریات 

کچھ دستاویزات میں مختلف سازشی تھیوریوں کا حوالہ بھی  دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اوسوالڈ 1962 میں مقبول نوجوان صدر کو قتل کرنے کے ارادے سے سوویت یونین  سے امریکا آیا تھا۔

1963 کے محکمہ دفاع کی دستاویزات میں 1960 کی دہائی کے اوائل کی سرد جنگ اور لاطینی امریکا میں امریکی مداخلت کا احاطہ کیا گیا تھا، جس میں کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو کی دیگر ممالک میں کمیونسٹ قوتوں کی حمایت کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

JFK فائلوں کے بارے میں ماہرین کا اظہاررائے

"Murder, Inc.: The CIA under John F. Kennedy" کے مصنف جیمز جانسٹن نے یو ایس اے ٹوڈے کو بتایا کہ وہ کسی بم شیل کی توقع نہیں کر رہے تھے، اس لیے کہ عملی طور پر تمام متعلقہ ایجنسیوں بشمول CIA - نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سب کچھ 1988 میں نیشنل آرکائیوز کو دے دیں گے۔

"اگر اس میں کوئی قابل اعتراض چیز ہوتی تو ایجنسیاں اسے کبھی نیشنل آرکائیوز کے حوالے نہ کرتیں۔

وارن کمیشن کیا ہے؟

منگل کو جاری ہونے والی کئی دستاویزات میں ’’وارن کمیشن’’  کا حوالہ دیا گیا ہے۔

1963 میں جان ایف کینیڈی کے سفاکانہ قتل  کے بعد، ان کے جانشین صدر لنڈن بی جانسن نے تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جو ’ وارن کمیشن ’ کہلایا۔ 

وارن کمیشن نے  ہی قرار دیا  کہ لی ہاروی اوسوالڈ ، جسے گرفتار  کرلیا گیا ’ لون وولف’ تھا جس نے تنہا یہ کام سرانجام دیا۔ لی ہاروی اوسوالڈ کو بعد ازاں لائیو ٹیلی ویژن پر ایک نائٹ کلب کے مالک نے گولی مار دی تھی۔

محکمہ انصاف تمام دستاویزات جاری کرنے میں اب بھی ناکام

دستاویزات  ٹھیک شام 7 بجے سے پہلے جاری کی گئیں تاہم تمام دستاویزات منگل کی رات آن لائن پوسٹ نہیں کی گئیں۔

نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈز ایڈمنسٹریشن نے انہیں اس بیان کے ساتھ پوسٹ کیا:

"صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 17 مارچ 2025 کی ہدایت کے مطابق، درجہ بندی کے لیے پہلے سے روکے گئے تمام ریکارڈز جاری کیے گئے ہیں جو صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کے ریکارڈز کلیکشن کا حصہ ہیں۔"

ریکارڈز آن لائن یا ذاتی طور پر، ہارڈ کاپی کے ذریعے یا اینالاگ میڈیا فارمیٹس پر، کالج پارک، میری لینڈ کے نیشنل آرکائیوز میں دستیاب ہیں۔

Watch Live Public News