غزہ پراسرائیلی وحشیانہ فضائی حملے،حماس کے اہم ترین رہنماؤں سمیت 415 افراد شہید

غزہ پراسرائیلی وحشیانہ فضائی حملے،حماس کے اہم ترین رہنماؤں سمیت 415 افراد شہید
کیپشن: غزہ پراسرائیلی وحشیانہ فضائی حملے،حماس کے اہم ترین رہنماؤں سمیت 415 افراد شہید

ویب ڈیسک: غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے جاری، فلسطینی شہادتوں کی تعداد 415 ہوگئی۔   شہید ہونے والوں میں حماس کے 5 اہم رہنما بھی شامل، زیادہ تربچے اور خواتین شہید ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے بیشتر شہروں پر فضائی حملے کیے، ان میں غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے، دیر البلاح، خان یونس اور رفح شامل ہیں۔

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق زخمیوں کی تعداد کم سے کم 562 بتائی گئی ہے۔

غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضقوت نے بتایا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر شہریوں پر آگ لگانے والے اور بھاری بم برسائے، جس سے مرنے والوں کی تعداد دوگنی ہوگئی۔

اس مشکل اور غیر متوقع صورتحال میں صرف سات ہسپتال کام کر رہے ہیں۔‘

اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ترک نے ایک بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری سے میں خوفزدہ ہوں، جس میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے المیے میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔‘

طبی سہولیات ختم ، ریڈکراس کی وارننگ

ریڈ کراس نے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی پر حالیہ اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں بہت سی طبّی سہولیات ’انتہائی دباؤ‘ کا شکار ہیں، جب کہ عالمی ادارہ صحت نے ادویات کی کمی کی اطلاع دی ہے۔

حماس کے اہم ترین رہنما شہید

حملوں میں حماس سے تعلق رکھنے والے جو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ان میں غزہ میں وزارت داخلہ کے سکریٹری محمود ابو وطفہ، داخلہ سیکورٹی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بہجت حسن ابو سلطان، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن ابو عبیدہ الجماصی، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عصام الدلیس اور وزارت انصاف کے سکریٹری احمد عمر الحتہ شامل ہیں۔

حماس نے ایک بیان میں الدعلیس، ابو وطفہ اور ابو سلطان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

رفح کی سرحدی گزرگاہ بند

اسرائیلی فوج کے مطابق رفح کی سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے راستے روزانہ 50 مریض اور زخمی افراد کو غزہ سے مصر منتقل کیا جا رہا تھا۔

یہ بات 19 جنوری کو نافذ العمل ہونے والے فائر بندی معاہدے کا حصہ ہے۔

حماس نے جنگ کا راستہ خود چنا، امریکا

دوسری جانب امریکا نے فلسطینی تنظیم حماس کو جارحیت کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز کے مطابق " حماس فائر بندی میں توسیع کے لیے یرغمالیوں کو رہا کر سکتی تھی مگر اس نے انکار کر کے جنگ کا راستہ چن لیا"۔

غزہ جنگ فوری روکی جائے، یورپی یونین

 یورپی یونین نے غزہ میں نئے سرے سے جاری کشیدگی کو ہولناک قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے کرائسز مینجمنٹ کی سربراہ حجا لحبیب نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ " غزہ میں نئے سرے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی تباہ کن ہے۔ شہری ناقابل تصور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘‘۔

یہ صرف ابتدا ہے، اب مذاکرات شعلوں کے درمیان ہوں گے، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں راتوں رات سیکڑوں فلسطینیوں کی موت کا سبب بننے والے فضائی حملے’صرف ابتدا’ ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی افواج حماس پر بڑھتی ہوئی طاقت سے حملہ کریں گی اور جنگ بندی کے لیے بات چیت اب صرف شعلوں کے درمیان ہی ہوگی۔

اسرائیلی رہنما نے کہا کہ حماس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہماری طاقت کا وزن محسوس کر لیا ہے اور میں آپ کو اور انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ’یہ صرف آغاز‘ ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ اور داخلی سلامتی کے ادارے ’شین بیت‘ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ گھنٹوں میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں سیلز، لانچنگ پوائنٹس، جنگی سازوسامان اور دیگر فوجی ڈھانچے شامل ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق، منصوبہ بندی اور عسکری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے دونوں تحریکوں کے ذریعے استعمال کیے گئے تھے۔

یرغمال اسرائیلی شہریوں کے اہل خانہ کا احتجاج

غزہ میں اکتوبر 2023 سے قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ نے غزہ پر پھر سے جنگی جارحیت کے باضابطہ اور تباہ کن آغاز پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل عام بند کریں اور جنگ بندی معاہدہ کر کے اسرائیلی قیدیوں کو چھڑوائیں۔

قیدیوں کے اہل خانہ پچھلے تقریبا ڈیڑھ سال سے اسرائیلی سڑکوں پر ہیں اور نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جنگ کے بجائے قیدیوں کی جنگ بندی معاہدے کے ذریعے محفوظ واپسی ممکن بنائیں۔

اسرائیل کا یہ وسیع حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ بندی میں توسیع یا دوسرے مرحلے میں منتقلی کے حوالے سے دوحہ میں وساطت کاروں کے بیچ مذاکرات جاری تھے۔

یاد رہے کہ 19 جنوری کو نافذ العمل ہونے والا جنگ بندی معاہدہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گیا۔ اس مرحلے میں حماس نے 33 اسرائیلیوں کو رہا کیا گیا جن کے مقابل اسرائیل نے 1400 سے زیادہ فلسطینی قیدی آزاد کیے۔ ابھی غزہ کی پٹی میں 59 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔

بنیاد پرست اسرائیلی سیاسی جماعت پھر یاہو حکومت میں شامل

انتہائی دائیں بازو کی بنیادپرست اسرائیلی سیاسی جماعت کے سربراہ بین گویر کا اسرائیل کے از سر نو غزہ پر جنگ مسلط کرنے کی خوشی میں پھر حکومت میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔

یہ اعلان وزیر اعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی نے کیا ہے۔ بین گویر کی جماعت نے جنوری سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر بطور احتجاج حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

Watch Live Public News