ہانگ کانگ: قومی سلامتی کے مقدمے میں 45 کارکنوں کو 10 سال قید کی سزا

ہانگ کانگ: قومی سلامتی کے مقدمے میں 45 کارکنوں کو 10 سال قید کی سزا
کیپشن: ہانگ کانگ: قومی سلامتی کے مقدمے میں 45 کارکنوں کو 10 سال قید کی سزا

ویب ڈیسک: ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے جمہوریت حامی 45 کارکنوں کو قومی سلامتی کے ایک تاریخی مقدمے میں 10 سال تک قید کی سزا سنادی۔ اس فیصلے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہو رہی ہے۔

یہ بیجنگ کے نافذ کردہ ایک س‍خت قانون کے تحت ہانگ کانگ کا قومی سلامتی کا سب سے بڑا مقدمہ تھا، جس نے ایک بار ترقی پذیر جمہوریت نواز تحریک کو کچل دیا۔ مذکورہ تحریک کے روح رواں سمجھے جانے والے قانونی اسکالر بینی تائی کو طویل ترین سزا سنائی گئی۔

ان کارکنوں کے خلاف 2021 میں غیرسرکاری پرائمری انتخابات میں ان کے کردار پر 2020 کے قومی سلامتی کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

ان پر ہانگ کانگ کی حکومت کو مفلوج کرنے اور شہر کے رہنما کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کا الزام تھا۔ انہوں نے یا تو اعتراف جرم کیا یا انہیں حکومت سے منظور شدہ تین ججوں نے بغاوت کی سازش کا مجرم پایا۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا نے کہا کہ وہ آسٹریلوی شہری گورڈن این جی سمیت جمہوریت کے حامی کارکنوں کو متنازع قومی سلامتی قانون کے تحت سزا سنائے جانے پر "شدید فکرمند" ہے۔

وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا کو " قومی سلامتی قانون کے وسیع پیمانے پر اطلاق" کے حوالے سے "سخت اعتراض" ہے۔

چین پر امریکی کانگریس کی کمیٹی کے چیئرمین کرس اسمتھ نے ان کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔

اسمتھ نے ایک بیان میں کہا،"اسی ہفتے ہانگ کانگ حکومت امریکی سرمایہ کاری کی کوشش کررہی ہے اور اسی دوران اس نے جمہوریت نوازوں کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے انہیں جیل میں ڈال دیا۔"

انہوں نے کہا "چینی کمیونسٹ پارٹی ہانگ کانگ میں اپنے جبر کے لیے امریکی مالیاتی اداروں سے مدد مانگ رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا،"بائیڈن انتظامیہ پر لازم ہے کہ ہانگ کانگ میں سرمایہ کاری کے بجائے کارکنوں کو جیل میں ڈالنے کے فیصلے میں شامل ججوں، پولیس اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کرے۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں چین کی ڈائریکٹر، سارہ بروکس نے اپنے ایک بیان میں کہا، ہم ایک ایسے دور میں چلے گئے ہیں جہاں ( ہانگ کانگ میں) صحت مند شہری بحث، عوامی تبادلہ خیال، معمول کے رابطوں اور سول سوسائٹیوں اور حکومتوں کے درمیان معمولی اختلافات کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کو دشمن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔"

Watch Live Public News