ویب ڈیسک:پاکستان کے انسداد دہشتگردی آپریشن کے بعد بھارتی پروپیگنڈا مہم میں شامل ہو کر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
پاکستان کی کارروائی کے بعد بھارتی میڈیا نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ ’افغان کرکٹرز‘ مارے گئے ہیں، جسے آئی سی سی نے بغیر تصدیق دہرا دیا۔
17 اکتوبر 2025 کو پاکستان نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے حافظ گل بہادر گروپ (ایچ جی بی) کے خفیہ ٹھکانوں کو پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں نشانہ بنایا۔
یہ کارروائیاں ان دہشتگردوں کے خلاف کی گئیں جو پاکستان میں خودکش حملوں اور سرحد پار گھات لگانے کے واقعات میں ملوث تھے۔
کارروائی کے چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ’افغان کرکٹرز‘ مارے گئے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے ریکارڈ میں ایسے کسی کھلاڑی کا وجود نہیں، نہ ہی ان علاقوں میں کوئی اکیڈمی یا کرکٹ کلب موجود ہے۔ حتیٰ کہ ان ناموں سے افغان کرکٹ حلقے بھی ناواقف ہیں۔

ان تصدیق شدہ حقائق کے باوجود آئی سی سی نے بغیر کسی تحقیق یا تصدیق کے بھارتی مؤقف کی لفظ بہ لفظ تقلید کرتے ہوئے پریس ریلیز جاری کردی۔ لیکن کابل، اسلام آباد یا اے سی بی سے اس کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔
یہی وہ ادارہ ہے جو اس وقت خاموش رہا جب پاکستانی کرکٹر دہشتگرد حملے میں شہید ہوئے، یا جب بھارتی طیاروں نے راولپنڈی اسٹیڈیم کے قریب بمباری کی۔