(ویب ڈیسک ) چیف جسٹس کی جانب سے ججز کمیٹی کے منٹس پبلک کرنے پرجسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب نے خط لکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق پانچ صفحات پر مشتمل خط جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ نہ بٹھانے کے معاملے پر وضاحت ضروری ہے، فل کورٹ کی تشکیل کے بارے میں شفافیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہے، عدلیہ کے اندر اختلافِ رائے کے بجائے اجتماعی دانش کو مقدم رکھا جانا چاہیے، آئینی اہمیت کے حامل مقدمات میں ادارے کی ساکھ سب سے اہم ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے ججز کمیٹی کے منٹس جاری ہونے کے بعد اس معاملے پر مزید وضاحت ناگزیر ہو گئی ہے، سوال یہ ہے کہ اجلاس کاروائیوں کو اب پبلک کیوں کیا گیا؟، 31 اکتوبر کے اجلاس کے منٹس واضح کرتے ہیں کہ 26ویں ترمیم کی درخواستوں پر دونوں ججز کا اجلاس ہوا تھا، ججز کمیٹی کے فیصلے کے بعد فل کورٹ بنانا لازم تھا اور کوئی اس کو ختم نہیں کرسکتا، چیف جسٹس کے لکھے گئے دو خطوط میں اکثریتی فیصلہ کی بے توقیری کی وجہ بتائی گئی۔
خط میں کہا گیا کہ 31 اکتوبر 2024 کو جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے چیف جسٹس نے فل کورٹ تشکیل کیلئے ملاقات کی، ملاقات میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر اٹھنے والے سوالات پر بات کی گئی، ملاقات میں عوامی اعتماد کی بحالی کا حل فل کورٹ ہے بتایا گیا، ججز کمیٹی کے فیصلے کے باوجود بھی چیف جسٹس نے آئینی بینچ کے سامنے مقدمات لگانے کا موقف اپنایا، ملاقات میں چیف جسٹس فل کورٹ تشکیل پر ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
خط میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے معاملہ پر ایک گھنٹے بعد دوبارہ ملاقات کا کہا، ایک گھنٹے بعد چیف جسٹس جسٹس منیب کے چیمبر میں آئے، چیف جسٹس نے تمام ججز سے انفرادی طور پر ملاقات کا بتایا، ہم نے چیف جسٹس کے انفرادی طور پر رائے لینے کو قانون اور پریکٹس کے برعکس قرار دیا، ججز سے انفرادی طور پر لی گئی رائے کی کوئی حیثیت نہیں، چیف جسٹس کی رائے کے بعد قانون طور پر کمیٹی اجلاس کے علاوہ کو آپشن نہیں تھا، نوٹس کے باوجود چیف جسٹس نے کاروائی میں شامل نہ ہوئے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر ہم نے 4 نومبر کو فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ دیا، فل کورٹ کیلئے رجسڑار کو بھی ہدایات جاری کردی گئیں، کمیٹی اجلاس کے فیصلے پر چیف کا لکھ گیا نوٹ ہمیں نہیں دیا گیا،4 نومبر کو خط کے باوجود بھی فل کورٹ تشکیل نہیں دی گئی، جوڈیشل یا انتظامی طور پر فل کورٹ تشکیل کیلئے ہم نے بہت کوشش کی، نتیجتاً ادارجاتی رسپانس نہ آسکا ۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس نے 26ویں آئینی ترمیم پر ججز کمیٹی کے اجلاس کے منٹس پبلک کئے تھے۔ ججز کمیٹی کے 31 اکتوبر 2024 کے منٹس جاری کئے گئے تھے۔
31 اکتوبر کے ججز کمیٹی اجلاس میں جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے 26ویں ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔