(ویب ڈیسک): گیمنگ کی دنیا میں سب سے زیادہ انتظار کیے جانے والے گیم GTA 6 سے متعلق لیکس نے راک اسٹار گیمز کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ تازہ ترین مبینہ ویڈیو فوٹیج سے عندیہ ملتا ہے کہ لیک کرنے والوں کو گیم کی صرف ویڈیوز ہی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک کھیلنے کے قابل بلڈ تک بھی رسائی حاصل ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں جی ٹی اے 6( GTA 6) کی مبینہ ویڈیوز اور گیم کے نقشے سے متعلق تصاویر آن لائن گردش کرنے لگی تھیں۔ ان پر ’Cyberleek‘ کا واٹرمارک موجود تھا اور انہیں اسی نام سے منسلک ایک ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز ڈی ایم سی اے (DMCA) کے تحت ہٹا دی گئیں، جس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ فوٹیج حقیقی ہو سکتی ہے اور راک اسٹار گیمز اور ٹیک ٹو انٹرایکٹو اسے منظرعام پر آنے سے روکنا چاہتے ہیں۔
اب مزید فوٹیج سامنے آئی ہے جس نے معاملے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ تازہ ویڈیو میں ایک کھلاڑی کو شہر کے اوپر طویل عرصے تک جہاز اڑاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد ایک دوسرے گیم پلے سین میں جیسن دیوار پر فائرنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسن محض فائرنگ نہیں کر رہا۔ گولیوں کے نشانات کے ذریعے دیوار پر ’LEEK‘ کا لفظ لکھا جاتا ہے، جو مبینہ لیکر کے نام ’Cyberleek‘ کی جانب واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس عمل نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے کہ لیک کرنے والے کو گیم کے کسی قابلِ استعمال یا کھیلنے کے قابل ورژن تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس حوالے سے کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ مبینہ گیم بلڈ کتنی پرانی ہے، اس میں گیم کا کتنا حصہ موجود ہے اور آیا یہ مکمل گیم ہے یا صرف اس کا محدود ورژن۔ یہ امکان بھی موجود ہے کہ لیکر کے پاس خود یہ بلڈ موجود نہ ہو بلکہ وہ کسی ایسے شخص سے فوٹیج حاصل کر رہا ہو جسے اس تک رسائی حاصل ہے۔
دونوں صورتوں میں یہ صورتحال راک اسٹار گیمز کے لیے خوش آئند نہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب جی ٹی اے 6 ( GTA 6) کی باضابطہ Extended Look ویڈیو کی ریلیز میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔
راک اسٹار گیمز نے تاحال تازہ ترین لیکس کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم 2022 میں GTA 6 کی ایک بڑی لیک کے بعد کمپنی نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیم کی تفصیلات اس انداز میں مداحوں تک پہنچنے پر وہ انتہائی مایوس ہے۔
بعد میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ 2022 کی لیک سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے راک اسٹار کو تقریباً 50 لاکھ ڈالر اور عملے کے ہزاروں گھنٹے صرف کرنا پڑے۔
ادھر 2022 کی لیک کے مبینہ ذمہ دار شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آئندہ نومبر میں دوبارہ مقدمے کا سامنا کرے گا۔ اس سے قبل اسے طبی ماہرین کی جانب سے خطرہ نہ سمجھے جانے تک ایک محفوظ ہسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔