ویب ڈیسک : نو منتخب صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی رہائی میں کوئی کردار ادا کرینگے،امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تحریک انصاف کے اس خیال کو محض خوش گمانی قرار دیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حسین حقانی ک کہنا تھا کہ کہ تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ صدر ٹرمپ اور عمران خان دونوں ہی پاپولسٹ لیڈر ہیں اور اس لیے صدر ٹرمپ کے پاس اُن کے لیے ہمدردی ہو گی۔
دوسرا اُن (پی ٹی آئی) کا خیال ہے کہ انھوں نے بڑی مضبوط لابنگ کی ہے اس لیے اُن کی لابنگ کا اثر پڑے گا۔ تحریک انصاف کا تیسرا گمان یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پرعمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے اور چوتھا یہ کہ عمران خان کے لیے صدر ٹرمپ کے دل میں ہمدردی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ جس سے لگے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو گی۔ ہاں اگر کوئی بیان وغیرہ آ جائے تو شاید وہ ایسا ہی ہو گا جیسا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے وقت صدر جمی کارٹر کا آیا تھا۔‘
اس بات کی وضاحت میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض گمان تاریخ میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔
ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دینے کے کے وقت امریکا اس عمل کی مخالفت کرنے والے ممالک میں تھا تاہم جنرل ضیا کے فیصلے میں تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اس کے بعد نواز شریف جب قید تھے تو اس موقع پر صدر بل کلنٹن نے جنرل مشرف کو نواز شریف کی رہائی کا کہا تو ان کو رہائی نہ ملی البتہ سعودی عرب کی مداخلت اور یقین دہانی پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔
لیکن اگر ٹرمپ واقعی پاکستان پر کوئی پریشر ڈالنا چاہیں تو وہ درحقیقت کر کیا سکتے ہیں؟
اس سوال کے جواب میں سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ جب جمی کارٹر نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی تو اس وقت امریکا کا کوئی ایسا دباؤ مثلا کوئی امدادی پیکیج نہیں تھا جس کو وہ منسوخ کر سکتے، کوئی ایسی پابندیاں نہیں تھیں جو پاکستان پر لگائی جا سکیں۔
اُن کے مطابق ’2007 میں بے نظیر کی پاکستان واپسی کے وقت امریکا کو پاکستان پر یہ برتری حاصل تھی کہ پاکستان کو ڈیڑھ، دو ارب ڈالر سالانہ کی امداد دی جاتی تھی جو اس وقت پاکستان کی معیشت اور مشرف حکومت کے برقرار رکھنے کے لیے ضرورت تھی، اس لیے ایسا ممکن ہوا تاہم اِس وقت امریکہ کا پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ یہ کہیں کہ میں آئی ایم ایف میں امریکا کا ووٹ پاکستان کے خلاف لاؤں گا۔ حالانکہ ایسا کبھی تاریخ میں ہوا نہیں تاہم وہ چونکہ صدر ٹرمپ ہیں ممکن ہے وہ ایسی بات کر دیں۔ تاہم مجھے اس میں ایسا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔