7 دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی ، عمران خان کا دو ٹوک اعلان

7 دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی ، عمران خان کا دو ٹوک اعلان

(ویب ڈیسک )  بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ سات دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی۔

 اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جو (آرمی چیف سے) ملاقات ہوئی اس میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر بات ہوئی ہے۔ لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر ملاقات پر ایشو کھڑا نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری شرط ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ عمران خان نے کہا ہے سات دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ  ہم حکومت کا انتظار کر رہے ہیں وہ کیا پیش رفت بتاتے ہیں۔ اگر کمیشن نہیں بننے جا رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ حکومت کو گھبراہٹ ہے کیونکہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے۔ حکومت کو مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت کے ساتھ مذاکرات پر فوکس کرنا چاہیے۔ بات آگے بڑھانے کے لیے جلد بازی کے بجائے تحمل سے کام لینا ہو گا۔

عمران خان نے کہا   ڈیل نہیں کروں گا،مقدمات کا سامنا کروں گا، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی   عمران خان کی ہمشیرہ   علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ  190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے بعد ساری دنیا میں اس فیصلہ کی وجہ سے ہمارا مذاق بن گیا ،اب سب کو سمجھ آگئی کہ سیاسی انتقام میں ہماری عدلیہ کس طرح استعمال ہوتی ہے ۔

انہوں نے  کہا کہ ناصر جاوید رانا پر سپریم کورٹ نے بھی اعتراض اٹھائے تھے، اسی قسم کے ججز آپ ہائی کورٹ میں بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو چوری، ڈاکا،مینڈیٹ چوری کو تحفظ دیں گے۔

علیمہ خان نے بتایا کہ   بانی پی ٹی آئی  کہتے ہیں کہ  مجھے یہ سزا اس لیے سنائی گئی کہ میں کوئی ڈیل کر لوں ، لیکن   میں کوئی ڈیل نہیں کروں گا،مقدمات کا سامنا کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان  نے کہا کہ  اس فیصلہ کا مذاکراتی کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں،  مذاکراتی کمیٹی کو دو مطالبات کے لیے بات کرنے کا کہا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ  بشری بی بی کو سہولت کاری پر 7سال کی سزا سنائی گئی یہ بھی تو بتائیں یہ کونسی سہولت کاری ہے یہ نہیں سمجھایا ، اب یہ کیس ہائیکورٹ جائے گا، بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ یہ کیس ہائیکورٹ میں جائے،یہ کیس زرداری کی  پراپرٹی ٹائیکون  کی سہولت کاری پر شروع ہوا اور سپریم کورٹ سے انکو جرمانہ ہوا، کیس لندن پہنچا جہاں پراپرٹی ٹائیکون  نے حسن نواز کی اپارٹمنٹ دگنی قیمت پر خریدی، اس کیس میں زرداری اور نواز شریف نہیں لیکن بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو سزا دے دی گئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ  بہتر یہ ہو گا کہ جن کے کیسسز ہیں وہ کورٹ میں آکر صفائی دیں ، ہائیکورٹ میں جاکر یہ سارا کیس مزید کھلے اور یہ سارے نام آپ پھر سے سنیں گے، بانی پی ٹی ائی نے واضح کر دیا کہ کوئی ڈیل نہیں کر رہا ، جتنی دیر مرضی جیل رکھنا ہے،جتنے مرضی ایسے ججز لا کر بٹھا دیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

Watch Live Public News