ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو وہ کسی بھی وقت صوبائی اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں، انہیں اس کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے، اور 9 مئی کے بعد پارٹی اور اس کے کارکنان کے ساتھ غیرمنصفانہ سلوک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے اپنا مینڈیٹ بچایا جبکہ حکومت کو ختم کرنے کی متعدد کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے گورنر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر بجٹ اجلاس بلانا گورنر کی ذمہ داری ہے لیکن اس معاملے میں کوتاہی برتی گئی۔ انہوں نے شکایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کو بجٹ پر مشاورت کا حق حاصل ہے، مگر انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
وزیراعلیٰ نے متنبہ کیا کہ اگر بجٹ پیش نہ کیا گیا تو وفاق معاشی ایمرجنسی نافذ کر کے صوبے کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے پارٹی ارکان کو ہدایت کی کہ وہ اسمبلی اجلاس کے دوران مطالباتِ زر پر ووٹنگ میں حصہ نہ لیں، اور کہا کہ اگلا لائحہ عمل پیر کو دیا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ یہ عناصر ایک بار پھر 9 مئی اور 8 فروری جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم باہر نکلیں گے تو نہ صرف اسلام آباد بلکہ کسی صوبے میں بھی بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کارکنوں سے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: "اب وقت آ گیا ہے، اگر اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔"