ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا عمران خان سے متعلق سوال پرردعمل دینے سےانکار

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا عمران خان سے متعلق سوال پرردعمل دینے سےانکار
کیپشن: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا عمران خان سے متعلق سوال پرردعمل دینے سےانکار

ویب ڈیسک: امریکا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پرکسی قسم کا ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔

بدھ کو ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس سے میڈیا بریفنگ کے  دوران سابق وزیر اعظم پاکستان اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے متعلق سوال کیا گیا۔

صحافی نے کہا کہ ’پاکستان کے مقبول رہنما عمران خان گذشتہ چند برسوں سے جیل میں ہیں۔ دو برسوں میں ملک میں چاہے جمہوریت ہو یا خواتین کے حقوق سب کچھ بکھر گیا ہے۔ صدر ٹرمپ انتخابات سے پہلے پاکستان کے بارے میں بہت سی باتیں کرتے تھے۔‘
انہوں نے سوال کیا کہ ’امریکہ میں ان ( صدر ٹرمپ) کے ہزاروں نئے ووٹرز اور لاکھوں پاکستانی ان سے کسی نہ کسی اقدام کی توقع کر رہے ہیں۔ کیا آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کچھ ہے یا آپ نے صدر سے کچھ سُنا؟‘

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے عمران خان سے متعلق سوال پر ردعمل دینے سے انکار کر دیا۔

 کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پربات نہیں کی جائے گی: ٹیمی بروس

 امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پربات نہیں کی جائے گی، چاہیں تو وائٹ ہاؤس سے بھی پوچھ لیں۔

ٹیمی بروس نے کہا کہ ٹرمپ اور وزیرخارجہ نے واضح کیا ہے کہ ہمیں کرہ ارض کی پرواہ ہے، امریکا کو اپنے پڑوسیوں کی پرواہ ہے، ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔

محکمہ خارجہ کی امریکا میں داخلے پر پابندی کیلئے ملکوں کی فہرست بنانے کی تردید

اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے امریکا میں داخلے پر پابندی کے لیے ملکوں کی فہرست بنانے کی تردید کر دی۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے بتایا کہ کئی دنوں سے جس فہرست کا انتظار ہو رہا ہے اس کا کوئی وجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی سلامتی کےلیے جائزہ لیا جارہا ہے کہ ویزا مسائل سے کس طرح نمٹنا ہے اور کسے داخلے کی اجازت دینی ہے جب یہ جائزہ مکمل ہوگا تو ہم اس بارے میں بات کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے عالمی ذرائع ابلاع نے رپورٹ دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے گزشتہ دور کی طرح سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے افغانستان اور پاکستان سمیت متعدد ممالک متاثر ہوں گے۔

Watch Live Public News