(ویب ڈیسک)تمغہ امتیاز سارہ احمد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔
سارہ احمد کا کہنا ہے کہ یہ قدم بلاوجہ نہیں اٹھایا گیا۔ ایک طویل عرصے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گرد افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں مسلسل حملے کر رہے تھے، جس سے افغان طالبان حکام بھی پوری طرح باخبر تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بارہا سفارتی سطح پر افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ تاہم، ان تمام کوششوں کے باوجود افغان حکام کی جانب سے کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔
سارہ احمد نے کہا کہ مسلسل خاموشی اور عدم تعاون کے نتیجے میں ان دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کے اندر سیکورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملے جاری رکھے، جس کے باعث ریاست کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے بلا امتیاز یا حادثاتی نہیں تھے، بلکہ انتہائی منظم، حساب شدہ اور درست (Precise) تھے۔ ان کا ہدف صرف اور صرف افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تھیں۔
سارہ احمد نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان نے کسی لڑکیوں کے سکول یا منشیات کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ نشانہ بنائی گئی جگہیں درحقیقت دہشت گردوں کے ٹھکانے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنا پیغام واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی عوام اور سرزمین کو کبھی بھی مستقل خطرے میں نہیں رہنے دے گا۔ ریاست پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی۔