(ویب ڈیسک) مئی 2026 میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے ناروے دورے کے دوران ناروے کی صحافی ہیلے لِنگ سوینڈسن (Dagsavisen) نے پریس فریڈم سے متعلق ایک جائز سوال اٹھایا اور آر ایس ایف پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے کی پہلی جبکہ بھارت کی 157ویں رینکنگ کا حوالہ دیا۔
مودی اس جائز سوال کا جواب دیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔سوال کا مدلل جواب دینے کے بجائے بھارتی گودی میڈیا اور مودی حکومت کے حامی انفلوئنسرز نے ان کے خلاف منظم کردار کشی مہم شروع کر دی۔
انہیں جھوٹے طور پر “سوروس ایجنٹ”، “گلوبل لیفٹ آپریٹو” اور بھارت مخالف کارکن کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہیلے لِنگ سوینڈسن ایک عام صحافی اور مبصر ہیں جو ناروے کے اخبار Dagsavisen سے وابستہ ہیں، جس کا سرکولیشن 14 ہزار سے بھی کم ہے اور جس کا تاریخی تعلق ناروے کی لیبر پارٹی سے رہا ہے۔
وہ اس سے قبل Nettavisen میں معاشی صحافی رہ چکی ہیں، امریکہ میں بطور نامہ نگار خدمات انجام دے چکی ہیں اور مختلف اداروں کے لیے فری لانس صحافت بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کی صحافت کا محور ہاؤسنگ، معیشت، لیبر اور ناروے کی داخلی سیاست ہے۔
جارج سوروس کے ساتھ ان کا کوئی براہِ راست ذاتی تعلق کبھی ثابت نہیں ہو سکا۔ بھارت میں لگائے گئے الزامات زیادہ تر بالواسطہ، کمزور اور غیر مصدقہ روابط پر مبنی ہیں۔ان دعوؤں میں Fritt Ord Foundation سے مبینہ مگر غیر ثابت شدہ گرانٹس کا حوالہ دیا گیا، حالانکہ یہ ادارہ خود مختلف ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرتا ہے جن میں Open Society سے جڑی محدود معاونت بھی شامل ہے۔
ان پر چین سے متعلق ان کی ماضی کی نسبتاً غیر جانبدار رپورٹنگ اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی من پسند تشریح کی بنیاد پر بھی حملے کیے گئے۔ ہیلے لِنگ سوینڈسن نے واضح طور پر تردید کی ہے کہ انہیں یہ سوال پوچھنے کے لیے کوئی ادائیگی کی گئی یا کسی نے انہیں ہدایات دی تھیں۔
سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ بھارتی اینکر سدھیر چودھری، جو 2012 میں جندل گروپ سے کول اسکینڈل کی خبروں کو دبانے کے بدلے مبینہ طور پر 100 کروڑ روپے بھتہ مانگنے کے کیس میں گرفتار ہو کر تہاڑ جیل جا چکے ہیں، وہی ایک نوجوان نارویجن صحافی کو “صحافتی اخلاقیات” کا درس دیتے دکھائی دیے۔
سدھیر چودھری اس سے قبل 2008 کے متنازع جعلی اسٹنگ آپریشن کیس سے بھی وابستہ رہے تھے، جس پر شدید تنقید ہوئی تھی۔
“گودی میڈیا” کی یہ پرانی حکمتِ عملی اصل سوالات سے توجہ ہٹانے، ناقدین کی کردار کشی کرنے اور ہر اختلافی آواز کو “غیر ملکی سازش” قرار دینے پر مبنی ہے۔ اس قسم کی مہمات نہ صرف جائز صحافتی سوالات کو دبانے کی کوشش ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی جمہوری ساکھ اور آزادیٔ صحافت کے دعوؤں کو بھی مزید نقصان پہنچا رہی ہیں۔