ویب ڈیسک: پیر کی علی الصبح لاہور فضائی آلودگی کے باعث دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا ہے، جس نے ماحولیاتی ماہرین اور شہریوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 332 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو "انتہائی مضرِ صحت" کیٹیگری میں شامل ہے۔
ای پی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کی یہ بلند ترین سطح شہریوں کی صحت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے افراد کے لیے جو دل، پھیپھڑوں، سانس یا دمے کے امراض میں مبتلا ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی فضائی آلودگی بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوسکتی ہے، اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں دیگر شہروں کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔ فیصل آباد کا AQI 325، شیخوپورہ 311، ڈی جی خان 239، گوجرانوالہ 233 جبکہ ملتان میں 224 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان سطحوں کے مطابق پنجاب کے بیشتر شہر خطرناک آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی آلودگی کا بنیادی سبب صنعتی اخراج، ٹریفک کا دباؤ، فصلوں کی باقیات جلانا اور شہری منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ حکومت کی جانب سے بارہا اسموگ سے بچاؤ کے لیے اقدامات کا اعلان کیا جا چکا ہے، تاہم زمینی حقائق کے مطابق عملی پیش رفت اب تک نظر نہیں آ رہی۔
لاہور میں تعلیمی اداروں، دفاتر اور اسپتالوں کے باہر ماسک پہننے کی تاکید کی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کو محتاط رہنے اور ہوا صاف کرنے والے آلات کے استعمال کی سفارش کی جا رہی ہے۔
ائیرکوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی
ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پاکستان کی درجہ بندی کے مطابق 0 سے 100 تک انڈیکس کو سبز اور مثبت جب کہ 101 سے 200 تک انڈیکس کو قدر آلودہ مگر قابل برداشت کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

300 سے 500 کے درمیان انڈیکس آلودہ اور انتہائی آلودہ کی کیٹیگری میں آتے ہیں اور ایسے میں طویل مدت تک فضائی آلودگی کی صورت میں دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کی درجہ بندی میں بتایا گیا ہے کہ ائیر کوالٹی انڈیکس 500 سے زیادہ ہونے کا مطلب فضا شدید آلودہ ہے اور اس کے اثرات صحت مند افراد پر بھی پڑسکتے ہیں۔