ویب ڈیسک: افغان حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ بگرام ائربیس کا کنٹرول ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے کسی قیمت پر نہیں کریں گے۔
عالمی میڈیا کے مطابق افغان وزارت خارجہ کے اہلکار ذاکر جلالی نے کہا کہ افغان سرزمین پر غیر ملکی فوج کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران بھی اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر رد کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے افغانستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بگرام ایئر بیس کو کسی صورت چھوڑنا نہیں چاہیے تھا، ایئربیس چھوڑنا شرمناک لمحہ تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر اور میں نے ٹک ٹاک معاہدے کی منظوری دی، ٹک ٹاک پر کڑی نظر رکھی جائے گی، سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، معاہدے پر دستخط ایک رسمی عمل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر سے غزہ اور یوکرین کے معاملے پر بات ہوئی، یقین ہے کہ چینی صدر روسی یوکرین تنازع کے خاتمے کی حمایت کریں گے، یوکرین جنگ سے پیسہ کما رہا ہے، ہمارا دفاعی سامان خریدا جا رہا ہے، روس نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، یہ ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے۔