علامہ اقبالؒ کی 87ویں برسی:صدر مملکت کاخصوصی پیغام

علامہ اقبالؒ کی 87ویں برسی:صدر مملکت کاخصوصی پیغام
کیپشن: علامہ اقبالؒ کی 87ویں برسی:صدر مملکت کاخصوصی پیغام

ویب ڈیسک: مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی آج 87ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے صدرمملکت آصف علی زرداری نے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔ 

صدرمملکت کا پیغام:

صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر علامہ اقبال کے یوم وفات پر پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں صدرمملکت کا کہنا تھا کہ چیلنجز کے پیش نظر ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کو مشعل راہ بنانا ہو گا۔ علامہ اقبال کے افکار، فلسفہ اور شاعری ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ہم علامہ اقبال کی سیاسی اور فکری خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ علامہ اقبال محض ایک شاعر نہیں،مفر اور مصلح بھی تھے۔آئیے عہد کریں کہ علامہ اقبال کی تعلیمات اور فکر پر عمل پیراں ہوں گے۔

یاد رہے کہ علامہ اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے ملتِ اسلامیہ میں بیداری کی لہر دوڑا دی۔ 1930ء میں الہٰ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ان کا تاریخی خطبہ اسی تصور پاکستان کی بنیاد بنا، جو بعد میں قیامِ پاکستان کی شکل میں حقیقت بنا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

علامہ اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی مشن اسکول سے حاصل کی، جبکہ ایف اے کا امتحان مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ لاہور منتقل ہوئے جہاں گورنمنٹ کالج سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ انگلینڈ چلے گئے جہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں جرمنی میں میونخ یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی۔

پیشہ ورانہ زندگی اور فکری خدمات

علامہ اقبالؒ نے تدریس سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور اورینٹل کالج میں خدمات انجام دیں، تاہم جلد ہی وکالت کو اپنا مستقل پیشہ بنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ وہ قومی اور فکری تحریکوں میں بھی سرگرم رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے 1922ء میں انہیں "سر" کے خطاب سے نوازا۔

شاعری اور فکری ورثہ

اقبالؒ کی شاعری نے مسلمانوں کے شعور کو جھنجھوڑا، خصوصاً نوجوانوں کو خودی، عمل، اور اُمید کا پیغام دیا۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں بانگ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف ادب کا سرمایہ ہے بلکہ ایک مکمل نظریاتی دستور بھی ہے، جو آج بھی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔

وفات اور قومی یادگار

21 اپریل 1938ء کو علامہ اقبالؒ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ ان کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے احاطے میں واقع ہے، جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہے۔

موجودہ وقت کی ضرورت ہے کہ علامہ اقبالؒ کی تعلیمات اور نظریات کو عام کیا جائے اور ان کے افکار کی روشنی میں قومی اتحاد، خودی اور ترقی کا سفر آگے بڑھایا جائے۔

Watch Live Public News