''امریکی خوشامد سے باز رہیں''،چین نے عالمی برادری کوخبردار کردیا

''امریکی خوشامد سے باز رہیں''،چین نے عالمی برادری کوخبردار کردیا
کیپشن: امریکی خوشامد سے باز رہیں،چین نے عالمی برادری کوخبردار کردیا

ویب ڈیسک: چین نے دنیا بھر کے ممالک کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق مذاکرات میں واشنگٹن کی طرف داری سے گریز کریں۔ چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ "خوشامد سے نہ امن حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی عزت کمائی جا سکتی ہے۔"

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ امریکی انتظامیہ مختلف ممالک کو چین کے ساتھ تجارت محدود کرنے کے بدلے میں تجارتی رعایتیں دینے کی پیشکش پر غور کر رہی ہے۔

امریکا کی نئی حکمت عملی

رپورٹس کے مطابق، امریکا نے اپنے قریبی تجارتی شراکت داروں سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ جاپانی وفد حال ہی میں واشنگٹن کا دورہ کر چکا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے ساتھ بھی رواں ہفتے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے۔

چین کا مؤقف: انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کا دفاع

چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی تجارتی اصولوں، انصاف اور کثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی یکطرفہ دباؤ یا دھونس کو قبول نہیں کرے گا۔

امریکی حکمت عملی پر عالمی ردِعمل

"وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق، امریکا دنیا کے کئی ممالک پر یہ دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنی تجارتی سرگرمیاں محدود کریں، بصورتِ دیگر انہیں امریکی درآمدی محصولات سے استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔

دوسری جانب، جاپانی آن لائن تجارتی ادارے "مونیکس گروپ" کے تجزیہ کار جیسپر کول کا کہنا ہے کہ جاپان کے لیے امریکا اور چین دونوں اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان دونوں میں سے کسی ایک کو چننے سے گریز کرے گا کیونکہ اس کی معیشت دونوں ممالک سے جڑی ہوئی ہے — 20 فیصد تجارتی منافع امریکا اور 15 فیصد چین سے حاصل ہوتا ہے۔

عالمی اقتصادی ماحول پر اثرات

عالمی تجارتی ماہرین کے مطابق، امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ تجارتی محاذ آرائی کی یہ صورتحال عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس کا اثر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں پر پڑ سکتا ہے۔

Watch Live Public News