ویب ڈیسک:لاہوریے ہوجائیں تیار، قاتل ڈور کی وجہ سے بند ہوچکے تہوار کی لاہور میں آئندہ سال واپسی کیلئے پنجاب حکومت سرگرم ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آئندہ سال لاہور میں محفوظ بسنت منانے کا اعلان کیا تھا۔ روایتی تہوار کو دوبارہ سے منانے کیلئے پنجاب حکومت کے محکمے سرگرم ہوگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو بسنت کے پرامن انعقاد کو یقینی بنائے گی۔
ذرائع کے مطابق، بسنت فروری 2026 میں دو مخصوص دنوں کے لیے منانے کی تجویز زیر غور ہے۔ امکان ہے کہ لاہور کا اندرون شہر اس تہوار کے مرکزی مقامات میں شامل ہو گا۔
تہوار کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے، جن میں موٹر سائیکل کی دو دن کے لیے پابندی بھی شامل ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
محفوظ بسنت کیلئے ایس او پیز تیار
بسنت کے دوران عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کے تحت:
پتنگ اور ڈور کی فروخت صرف ضلعی انتظامیہ کے رجسٹرڈ افراد کو ہی اجازت ہوگی۔
ڈور بنانے والے تمام کاریگروں کا رجسٹرڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ڈور کی تیاری میں شیشہ یا کسی بھی قسم کا نقصان دہ مواد استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
ہر تیار شدہ ڈور کا معائنہ ضلعی انتظامیہ کرے گی تاکہ محفوظ مواد کی تصدیق کی جا سکے۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
رنگ، روایت اور تحفظ — سب ساتھ ساتھ
حکام کا کہنا ہے کہ اس برس بسنت کو ثقافتی رنگوں سے بھرپور مگر مکمل حفاظتی اقدامات کے تحت منایا جائے گا تاکہ ماضی کی طرح کوئی جانی نقصان نہ ہو اور شہری اس تہوار کو خوشی سے منا سکیں۔