(ویب ڈیسک)میٹا نے باضابطہ طور پر واٹس ایپ پلس کی آزمائش شروع کر دی ہے، جو اس کی مقبول میسجنگ ایپ کا ایک سبسکرپشن پر مبنی نیا ورژن ہے۔ یہ فیچر ابتدائی طور پر اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں دیکھا گیا ہے اور اس میں خوبصورتی اور تنظیمی سہولیات شامل کی گئی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ٹیلیگرام نے اپنے پریمیم ماڈل میں کیا تھا۔

اس سبسکرپشن کا بنیادی مقصد صارفین کو زیادہ ذاتی نوعیت کے اختیارات فراہم کرنا ہے۔ اب صارفین روایتی سبز تھیم سے ہٹ کر 18 مختلف رنگوں پر مبنی تھیمز منتخب کر سکتے ہیں جو پوری ایپ کا انداز بدل دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ 14 منفرد ایپ آئیکنز بھی دستیاب ہوں گے، جن سے صارفین اپنے موبائل کی ہوم اسکرین پر ایپ کا آئیکن اپنی پسند کے مطابق بدل سکتے ہیں۔ مزید برآں، اس پلان میں فل اسکرین اینیمیشن والے خصوصی اسٹیکرز بھی شامل ہیں۔
تنظیمی بہتریاں:

صرف ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہ رہتے ہوئے، واٹس ایپ پلس چیٹ مینجمنٹ کے حوالے سے بھی اہم بہتریاں لاتا ہے۔ سبسکرائب کرنے والے صارفین اب اپنی چیٹ لسٹ میں 20 چیٹس کو پن کر سکتے ہیں، جبکہ مفت ورژن میں یہ حد صرف 3 ہے۔
اس کے علاوہ، ایک ساتھ متعدد کانٹیکٹس پر سیٹنگز لاگو کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ یعنی صارفین ایک ہی وقت میں مختلف لوگوں کے لیے تھیمز اور نوٹیفکیشن ٹونز سیٹ کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ وائس اور ویڈیو کالز کے لیے 10 خصوصی رنگ ٹونز بھی شامل کی گئی ہیں۔
دستیابی اور فیس:

فی الحال یہ فیچر محدود اینڈرائیڈ بیٹا صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ عام صارفین کے لیے اس کی ریلیز کی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی، تاہم دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ویٹ لسٹ موجود ہے۔ یورپ میں اس کی آزمائشی قیمت تقریباً 2 یورو ماہانہ (تقریباً 2.14 ڈالر) رکھی گئی ہے، اور ادائیگی گوگل پلے اسٹور کے ذریعے ہوگی۔
میٹا نے واضح کیا ہے کہ ایپ کی بنیادی میسجنگ سہولیات بدستور مفت رہیں گی۔ تاہم واٹس ایپ پلس کا اجرا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی اب غیر ضروری مگر اضافی فیچرز کے ذریعے آمدنی بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ فی الحال آئی او ایس صارفین کے لیے اس فیچر کی دستیابی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔