غیر مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد احتساب سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟ پاکستان

غیر مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد احتساب سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟ پاکستان
کیپشن: غیر مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد احتساب سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟ پاکستان

ویب ڈیسک: پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل کی فہرست میں ایک بھی غیر مسلم دہشت گرد نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ غیر مسلم انتہا پسند اور دہشت گرد احتساب سے کیوں بچ نکلتے ہیں؟ یہ  دوہرے معیارات دہشت گردی کے لیے آکسیجن ہیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  بھارت ہمارے ملک میں دہشت گردی اسپانسر کر رہا ہے۔ بھارت کی سرحد پار کارروائیاں پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کا باعث بن رہی ہیں۔ مئی میں بھارتی جارحیت سے 54 بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے۔  شہداء میں 15 بچے اور 13 خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جارحیت بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ریاستی دہشت گردی کو انسدادِ دہشت گردی کا لبادہ نہ اوڑھایا جائے۔  دہشت گردی کے بنیادی اسباب ختم کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں بھارتی و اسرائیلی جبر کی مذمت کرتے ہیں۔ عوامی جدوجہد اور دہشت گردی میں فرق کرنا ضروری ہے۔

عاصم افتخار نےجامع انسدادِ دہشت گردی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ TTP، BLA اور مجید بریگیڈ کا گٹھ جوڑ علاقائی امن کیلئے خطرہ ہے۔ افغان سرزمین سے سرگرم TTP پاکستان کی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ داعش خراسان کے 2,000 جنگجو افغانستان میں سنگین خطرہ ہیں۔ داعش کے 3,000 جنگجو عراق و شام میں اب بھی سرگرم۔



Watch Live Public News