ویب ڈیسک: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا ہے کہ برسلز کے ایونٹ میں آرمی چیف نے نہ پی ٹی آئی کا ذکر کیا اور نہ ہی معافی کا۔ یہ ایک صحافی کی ذاتی مفاد اور تشہیر حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نےاسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کی ہے ۔ اپنے بیان میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی طرف سے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا۔سہیل وڑائچ کے جس کالم کی بات ہے وہ برسلز کا ایک ایونٹ تھا۔ برسلز کے ایونٹ میں تو سینکڑوں لوگوں نے تصاویر بنوائیں۔ برسلز کے ایونٹ میں پی ٹی آئی کا کوئی ذکر ہوا نہ ہی معافی کا۔
ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ یہ ایک صحافی کی ذاتی مفاد اور تشہیر حاصل کرنے کی کوشش ہے۔سہیل وڑائچ کی یہ ایک نامناسب حرکت تھی۔جو شخص غیرقانونی حرکت کرے،اسے قانون کے کٹہرے میں آنا ہو گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال ہوا کہ کیا جیو اور جنگ کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی؟ جس پر ترجمان پاک فوج نے جواب دیا کہ ہم نے بہت واضح الفاظ میں کہا کہ اداروں کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔میڈیا کو سمجھنا چاہئے کہ یہ مناسب نہیں۔افسوس کی بات ہے کہ سینئر صحافی نے بھی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔فوج ایک ذمہ دار ادارہ ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کا خیال تھا کہ اتنی محنت کے بعد وہ جب حملہ کریں گے تو پاکستانی فوج کو باآسانی ڈس کریڈٹ کردیں گے مگر الٹ ہو گیا۔پاکستان کے بھرپور جواب سے ان کی اپنی پراکسیز اور ملک ڈس کریڈٹ ہو گیا۔کسی سیانے نے انھیں کہا کہ بھارت کے پاس اربوں ڈالر کا اسلحہ ہے،باآسانی پاکستان کو شکست ہوگی۔اسی سیانے نے کہا تھا کہ بھارت کو پاکستان پر حملہ کردینا چاہئے۔تا کہ ایک طرف سے ہندوستان اور دوسری جانب سے انکی پراکسیز فتنہ الخوارج اور فتنہ الۂندوستان بھی بیک وقت حملہ کریں گے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دونوں محازوں پر دشمن کا مقابلہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکنے کیلئےالیگل سپیکٹرم کو ختم کرنے کا جو فیصلہ تمام سیاسی پارٹیوں نے ۲۰۱۴ میں کیا تھا، آج تک اُس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا ۔غیر قانونی قیام پذیر افغانوں کو نکالیں جو کہ جرائم میں ملوث ہیں تو ہمارے ہی ملک کے چند سیاسی و کریمنل کرداروں کو مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے ۱۴ نکات پر مکمل عمل بہت ضروری ہے۔گورننس کے گیپس کو فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ 80 ارب روپے ہے،ہم ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ایران جیسا ملک بھی زیادہ رقم خرچ کرکے بھی ایٹمی قوت نہیں بن پایا۔ہمارے نوجوانوں کے ذہن میں ڈالا گیا کہ ہم ناکام قوم ہیں۔اسی وقت ہندوستان کو ’’شائننگ اسٹیٹ‘‘ اور ’’وشوا گرو‘‘ کے القابات دیئے گئے۔یہ پراپیگنڈا بچوں اور اگلی نسل کو مایوسی میں دھکیلنے کیلئے وار تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ پاکستان خطے کی تقدیریں تبدیل کرنے والا ملک ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر تواتر سے حملے ہوتے ہیں۔نوجوانوں کو نظریاتی ریاست کی میراث سمجھنی چاہئے۔نوجوانوں کو اپنی طاقت پہچاننی ہوگی۔جس دن نوجوان طاقت پہچان گئے کسی خوارج یا پراکسی کا ڈر نہیں رہے گا۔فتح مکہ کے وقت حضور پاک ﷺ نے فرمایا ’’حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘‘۔یہ بھی فرمایا ’’بے شک باطل مٹنے کیلئے ہی ہے‘‘۔نبی پاک ﷺ کو بہت مشکلات دیکھنے کے بعد فتح مکہ نصیب ہوئی۔حضور پاک ﷺ کی مشکلات نے ہمارے سفر کی نشاندہی کی۔