ویب ڈیسک: جنوبی ایشیا میں بھارت کی علاقائی بالا دستی کا فریب تیزی سے ٹوٹنے لگا۔ ایک مرتبہ پھر بنگلہ دیش بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھا۔
مودی کی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے جاری ریاستی دہشت گردی حد سے تجاوز کر گئی ۔ بنگلا دیشی انقلابی رہنما عثمان ہادی کی شہادت کے بعد بھارت کی جانب سے دیگر بنگال رہنماؤں کو قتل کی دھمکیاں ۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ میجر اور کرنل کی جانب سے کھلے عام نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو دھمکیاں دی گئیں۔ بھارتی عزائم دھمکی آمیز اور ہتک آمیز ہیں، بنگلہ دیش کی تقسیم کرنے کی بات بھی سوشیل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے عزائم ہمسائیوں کے ساتھ برابری کے نہیں بلکہ غصیبانہ ہیں۔
بھارت خطے میں اپنی حاکمیت قائم کرنے کا خواہاں ہے اور مسلسل چانکیہ کوٹلیا کی سِلکلہائی کے مطابق دھوکہ دہی اور فریب کا استعمال کرتا ہے۔ ہندوتوا ذہنیت کے مالک بھارتی بھگت لڑتے نہیں لڑواتے ہیں جو خصوصاً شیطانی فعل ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام بھارت کی خطے میں اکھنڈ بھارت نظریے پر قائم توسیع پسندانہ اجارہ داری اور دیگر ممالک میں مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے خطے میں بھارت کے کردار اور مداخلت کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے اور مزاحمتی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
بنگلہ دیشی نوجوان جوابا نعروں میں بھارت کی مشرقی ریاستوں المعروف سیون سسٹرز کو آزاد کرانے کے نعرے لگا رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی سڑکوں سے بھارت کو برملا پیغام دیا جارہا ہے کہ مودی کی علاقائی غنڈہ گردی اب قبول نہیں ہوگی۔ وہ دن دور نہیں جب بھارت کے اندر لوگ اس ہندتوا ذہنیت کے خلاف آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔