ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں بڑا فوجی حملہ کیا جا سکتا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نے ایران کی جانب اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی گئی ہیں۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ بعض اطلاعات میں محدود فضائی حملوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کچھ تجزیوں کے مطابق ممکنہ کارروائی کا مقصد صرف عسکری دباؤ نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے ان رپورٹس پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی حکام ماضی میں واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔