(ویب ڈیسک ) ترکیہ کے ایک ہوٹل میں آتشزدگی کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد76 ہوگئی ہے۔ جس کے بعد ترکیہ کی حکومت نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کردیا ہے۔
اس سے قبل حکام کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے سکی ریزورٹ بولو کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 66 افراد ہلاک اور کم از کم 51 زخمی ہو گئے۔آگ 12 منزلہ گرینڈ کارٹل ہوٹل میں مقامی وقت کے مطابق 03:27 پر لگی ، ہوٹل میں 234 افراد موجود تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگانے کے بعد کم از کم 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
بولو کے گورنر عبدالعزیز آیدین نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ہوٹل کی چوتھی منزل کے ریستوران کے حصے میں لگی اور اوپر کی منزل تک پھیل گئی۔
ہوٹل اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا آگ پھیلتے ہی مہمان اپنے کمروں میں پھنس گئے تھے۔
گورنر نے رپورٹرز کو بتایا کہ موسمی حالات کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو پہنچنے میں 1 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔
ریسکیو کی کوششیں صبح تک جاری رہیں، اور وزیر داخلہ نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز نے آگ پر قابو پانے کے لیے 267 افراد کو تعینات کیا تھا۔
بولو پہاڑ استنبول اور دارالحکومت انقرہ سے آنے والے اسکائیرز میں مقبول ہیں ، دو ہفتے کی اسکول کی چھٹیوں کے آغاز کے دوران بہت زیادہ تعداد میں لوگ اس ہوٹل میں آئے ہوئے تھے۔
اگرچہ آگ صرف ایک ہوٹل تک محدود تھی لیکن گورنر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ احتیاط کے طور پر ساتھ والے ہوٹل کو خالی کرالیا گیا ہے۔
سکی انسٹرکٹر نیکمی کیپسیتوتن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا کیونکہ وہ ہوٹل کو جانتا تھا، جبکہ مہمان جو اس کو نہیں جانتے تھے اور وہ اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔
انہوں نے بتایا کہ "لوگ کھڑکیوں سے چیخ رہے تھے، 'ہمیں بچاؤ'، کیونکہ اندر شدید دھواں تھا۔ ہم نے 20-25 لوگوں کو باہر نکالا،"
آگ لگنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہیں تاہم وزیر انصاف یلماز ٹنک نے کہا کہ پراسیکیوٹرز کو آگ کی تحقیقات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ترکیہ کے سیاحتی مقام پر ہوٹل میں لگنے والی آگ سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت کیا ہےاور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی ترکیہ کے بہن بھائیوں اور حکومت کے ساتھ ہیں۔