بابا وانگا کی دہائیوں پرانی اسمارٹ فونز سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی 

بابا وانگا کی دہائیوں پرانی اسمارٹ فونز سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی 

(ویب ڈیسک ) دنیا بھر میں اپنی حیران کن اور اکثر درست ثابت ہونے والی پیش گوئیوں کے باعث مشہور بابا وانگا کی ایک پرانی   پیشگوئی آج کے ڈیجیٹل دور میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ برسوں پہلے کی گئی یہ پیش گوئی اس وقت محض ایک خیال سمجھی گئی تھی، مگر آج جدید ٹیکنالوجی نے اسے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے دہائیوں قبل کہا تھا کہ مستقبل میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرے گا۔ ان کے مطابق یہ ڈیوائسز بظاہر سہولت فراہم کریں گی، لیکن انسانی تعلقات اور سماجی رویوں میں گہری تبدیلیاں بھی لے آئیں گی۔

اس زمانے میں اس پیش گوئی کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، تاہم آج اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ کام ہو، تعلیم ہو یا تفریح، بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد ان آلات کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، مگر بابا وانگا نے اس کے ممکنہ منفی پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوگا، ویسے ویسے حقیقی انسانی روابط کمزور ہوتے جائیں گے، جس کا براہِ راست اثر ذہنی صحت پر پڑے گا۔

آج کے حالات اس خدشے کو کسی حد تک درست ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسکرین ٹائم میں مسلسل اضافے کے باعث تنہائی، بے چینی، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بڑے سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے پہلے بستر پر اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نیند کا نظام متاثر ہوتا ہے اور ذہنی و جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین اسکرین کے غیر ضروری استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بابا وانگا کو تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ ان کی کئی پیش گوئیاں وقت کے ساتھ درست ثابت ہوئیں، جن میں دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے حملے اور 2004 کا تباہ کن سونامی شامل ہیں۔

Watch Live Public News