ویب ڈیسک: چین نے دریائے برہما پتر پر دنیا کے سب سے بڑے اور مہنگے ڈیم کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے۔ جس پر بھارت نے نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا بلکہ اب بھارت کے اندر سے حکومت کیخلاف آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔
اشوک سوائن کو مودی سرکار کا بہت بڑا ناقد جانا جاتا ہے۔ جنہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے جاری بیان میں لکھا ہے کہ چین نے برہما پترا کے بالائی علاقے میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کی تعمیر شروع کر دی ہے۔
China started building the world’s largest dam on the upstream of Brahmaputra. Those idiots in India were boasting of stopping Indus water to Pakistan, now will have to beg China for Brahmaputra water. pic.twitter.com/JWC31OI1ti
— Ashok Swain (@ashoswai) July 20, 2025
انہوں نے مزید لکھا کہ بھارت میں جو لوگ پاکستان کے لیے سندھ طاس کا پانی روکنے کے دعوے کر رہے تھے، اب شاید خود کو چین سے برہما پترا کے پانی کے لیے درخواست کرتے ہوئے پائیں۔
یاد رہے کہ چین نے تبت کے علاقے میں بہنے والے یارلُنگ سانگپو (جسے بھارت میں برہما پتر کہا جاتا ہے) پر ہفتے کے روز ایک میگا ہائیڈروپاور منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم لی کیانگ نے شرکت کی۔
اس منصوبے کا مقصد چین کے کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنا اور تبت کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق، ڈیم سے بننے والی بجلی مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ چین کے دیگر علاقوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔
تخمینہ ہے کہ منصوبے پر 1.2 ٹریلین یوآن (167.1 ارب ڈالر) لاگت آئے گی اور پانچ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ یہ ڈیم تھری گورجز ڈیم سے بھی بڑا ہو سکتا ہے، جس سے بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔
چین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے زیریں علاقوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور وہ متعلقہ ممالک سے رابطے میں رہے گا۔ بھارت پہلے ہی اس منصوبے پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکا ہے اور ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔