(ویب ڈیسک ) یہ واقعہ کروشیا میں پیش آیا جس میں ایک خاتون کی تین دہائیوں پرانی لاش ان کے اپارٹمنٹ سے ملی تھی۔
یہ واقعہ 2008 میں سامنے آیا، جب زغرب شہر میں ایک اپارٹمنٹ کو دوبارہ الاٹ کرنے کی کوشش کی گئی، تو اندر سے 1973 میں لاپتہ ہونے والی ہیڈویگا گولِک کی باقیات دریافت ہوئیں۔
ہیڈویگا، جو پیشے کے لحاظ سے ایک نرس تھیں، کو آخری بار ان کے پڑوسیوں نے 1973 میں دیکھا تھا۔ ان کے پڑوسی برسوں سے اس بات پر حیران تھے کہ اپارٹمنٹ بند کیوں ہے اور کوئی اس میں آتا جاتا کیوں نہیں۔
ایک پڑوسی نے بتایا، "جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہ منظر ناقابلِ یقین تھا، میں فوراً باہر بھاگا اور پولیس کو اطلاع دی۔"
متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق، جب حکام نے ہیڈویگا کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا تو اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ ایک کرسی پر بیٹھی انسانی باقیات موجود تھیں، جن کے سامنے ایک پرانا 1960 کی دہائی کا ٹی وی اور ایک چائے کا کپ رکھا تھا، گویا وہ زندگی کے کسی عام لمحے میں دنیا سے رخصت ہوئی ہوں۔
رپورٹس میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہیڈویگا کی موت ممکنہ طور پر 1966 میں ہوئی، تاہم اب تک ان کی وفات کی صحیح تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔
طبی ماہرین نے ہیڈویگا کی موت کو قدرتی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی وفات تقریباً 49 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ حیران کن طور پر، تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے لاپتا ہونے کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی اور 2008 میں ان کی باقیات ملنے کے بعد بھی کوئی قریبی رشتہ دار سامنے نہیں آیا۔
لاش سے بدبو نہ آنے سے متعلق فرانزک ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر موت کے بعد صرف چند ہفتے یا مہینے تک ہی بدبو محسوس ہوتی ہے، جس کے بعد لاش خشک ہو جاتی ہے اور بدبو ختم ہو جاتی ہے۔