ویب ڈیسک: ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کا معمہ حل نہ ہوسکا، اداکارہ کے کیس میں مزید نئے انکشافات سامنے آگئے جس نے سب کو چونکا دیا۔
تفصیلات کےمطابق 9 ماہ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی گمشدگی کادعویٰ کرنیوالے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ ’ اداکارہ کے فون پر 5 فروری کے بعد سرگرمیاں ہوئیں، اس دوران ان کے واٹس ایپ سے نہ صرف ڈی پی ہٹائی گئی بلکہ ان کا لاسٹ سین بھی غائب کردیا گیا‘ ۔

دانش مقصود نے بتایا کہ ’ حمیرا سے میری آخری بات چیت 2 اکتوبر کو ہوئی تھی لیکن ان کے واٹس ایپ پر لاسٹ سین کی تاریخ 7 اکتوبر 2024 کی تھی۔


اس کے بعد میں نے متعدد مرتبہ حمیرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، اس دوران کالز اور میسیجز بھیجے جو کبھی پڑھے نہیں گئے‘ ۔ ’جب کئی ماہ تک حمیرا اصغر کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہ آئی تو ان کے لاپتا ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے کا فیصلہ کیا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے بھی حمیرا کے موبائل نمبر پر ایک مرتبہ پھر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہونے پر 5 فروری کو سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کردی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’5 فروری کو پوسٹ لگانے کے بعد اگلے دن پھر رابطہ کیا تو حمیرا اصغر کے واٹس ایپ سے نہ صرف ان کی ڈی پی غائب تھی بلکہ ان کا لاسٹ سین بھی بند کردیا گیا تھا‘۔
دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا تھا کہ’ اسٹائلسٹ دانش سے رابطہ کیا ہے، ان سے تمام اسکرین شاٹس لے کر اس سے متعلق مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے‘۔
واضح رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے، کیمیائی تجزیے کے دوران اداکارہ کو زہر دیے جانےکے شواہد نہیں پائے ۔