ویب ڈیسک:خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں رات گئے ہونے والی موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی۔ شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے سیاحتی مقام کمراٹ سمیت مختلف علاقوں میں نظام زندگی مفلوج کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سیلابی پانی اپنے ساتھ کمراٹ کا مرکزی پُل بہا لے گیا، جس سے نہ صرف مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تفریح کے لیے آئے سیاح بھی اطراف میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جہاز بانڈہ سمیت دیگر مقامات پر 2 مزید رابطہ پُل بھی پانی کی نذر ہو گئے ہیں۔
بارشوں کے باعث کم از کم 4 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ ایک چھوٹے پاور ہاؤس کو بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی ذرائع کے مطابق سیلابی ریلے میں ایک کمسن بچہ بھی بہہ گیا، جس کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ضلع اپر دیر اور گردونواح میں مسلسل بارشوں کے بعد لینڈسلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہےجبکہ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر پلوں کی بحالی اور سیاحوں کے انخلاء کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔