عمران خان کےخلاف 10 ارب ہتک عزت کے دعوے میں اہم پیشرفت

عمران خان کےخلاف 10 ارب ہتک عزت کے دعوے میں اہم پیشرفت
کیپشن: عمران خان کےخلاف 10 ارب ہتک عزت کے دعوے میں اہم پیشرفت

ویب ڈیسک:عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کے کیس کی سماعت 23 جون تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی، جس میں وزیراعظم ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے اور حلفیہ بیان دیا۔

کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی کی عدالت میں ہوئی جبکہ مدعی کے وکیل محمد حسین چوٹیا اور وزیراعظم کے وکلا بھی عدالت میں موجود رہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ویڈیو لنک پر حلف لیتے ہوئے کہا، ’’اللہ کو حاضر ناظر جان کر بیان دوں گا، کوئی بھی غلط بیانی نہیں کروں گا۔‘‘

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ میرے پیچھےدہرائیں، کوئی بات نہیں چھپاوں گا۔

وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ چھپانا ایک ٹرکی لفظ ہے،اگر ایک چیز کا مجھے علم ہی نہیں تو کیسے کہوں۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ یہ قانون کا تقاضہ ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ بس کہہ دیں کہ غلط بیانی نہیں کروں گا، اگر کروں تو اللہ مجھ سے ناراض ہو۔

شہباز شریف  نے کہا کہ جی بالکل میں کوئی غلط بیانی نہیںُ کروںُ گا۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ اس وقت آپکا بیان آپ کے کمرے میں ہو رہا ہے،اس وقت آپ کے کمرے میں آپکا وکیل موجود ہے،آپ کی یاد دہانی کیلئے بتاتا چلوں کہ آخری سماعت میں آپکے بیان حلفی بارے بات ہو رہی تھی،یہ جتنی مہریں لگی ہوئی ہیں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ آپ کو اوتھ کمشنر کے سامنے کس نے شناخت کیا،صفحہ نمبر 7 میں کہیں نہیں لکھا کہ آپکو کس نے شناخت کیا۔

شہباز شریف نے کہاکہ یہ درست نہیں ہے،جج صاحب آپکا وقت بہت قیمتی ہے، ایک حقیر درجہ میں میرا وقت بھی قیمتی ہے،بار بار دہرانے سے قیمتی وقت ضائعُ ہو رہا ہے۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ شناخت کس نے کی، اس کا نام کا ذکر نہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بطور وزیر اعلی پنجاب اوتھ کمشنر مجھے ویسے بھی جانتے تھے،جج صاحب آپکے سامنے بہت سی پیشیاں ہو چکیں،ابھی تک مہروں اور دستخطوں کے علاوہ کوئی بات ہوئی نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چوٹیا صاحب چاہتے ہیں اسی بہانے آپ سے بار بار ملاقات ہو جاتی ہے۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ آپ صرف یہ بتا دیں کہ کس صفحہ پر شناخت والی مہر لگا ہے بس وہ بتا دیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ میں اس کا جواب دے چکا ہوں،یہ قانونی نقطہ ہے میرے وکلا اس بارے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ جو آپ کے وکیل نے نوٹس دیا تھا وہ آپکے وکیل نے آپکی ہدایت اور رضا مندی سےدیا تھا،عرضی دعوی کے پیرا نمبر پانچ پلیٹ پر آ جائیں،مجھے بتائیں کہ پیرا نمبر پانچ آپکے لیگل نوٹس میں کہاں سپیسیفائیڈ ہے؟ اس مرحلہ پر کوئی بھی رسید پیش نہیں کی جا سکتی،اگر اس مرحلہ پر آپ رسید جمع کروانا چاہتے ہیں تو میرا اعتراض نوٹ کر لیں اور کروا لیں۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ سیکنڈری ایویڈنس جمع کروانا چاہتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سیکینڈری ایویڈنس جمع کروانے کے لیئے درخواست دینا پڑتی ہے،درخواست دیں گے اسکا رٹن جواب آئے گا اگر آپکی درخواست قبول ہو گی تو اس پر بات کر لیں گے۔

 وکیل شہباز شریف نے کہا کہ چوٹیا صاحب باقی سوال کر لیں۔

میاں محمد حسین چوٹیا نے کہا کہ میری کسی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں،میں ایک پروفیشنل وکیل ہوں نہ بانی پیُ ٹی آئی عمران خان سے کوئی وابستگی ہے نہ میاں صاحب سے،دیکھا جائے تو میں نے میاں شریف صاحب کا بھی ایک کیس لڑا تھا،کچھ سال پہلے میاں صاحب کا بھی ایک کیس دیکھا تھا انہوں نے فیس دی میں نے کیس دیکھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں، آج کوئی بھی ایویڈنس ریکارڈ نہیں ہو سکا تکنیکی وجوہات کی بنا پر،ہم کسی بھی ٹیکنیکل چیز پر نہیں آ رہے اور میں ان بھمبھڑ بھوسیوں میں پھنسا ہوا ہوں،میں نے ایک ملک کا دورہ کرنا تھا لیکن اس کیس کی وجہ سے نہیں جا سکا،میری گذارش ہے کہ اسے اگلی سماعت  پر کنکلیوڈ کریں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل اور موجودہ کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 23 جون تک ملتوی کر دی۔

Watch Live Public News