اسرائیل کا ایران میں اصفہان کے نزدیک جوہری تنصیب پر حملہ

اسرائیل کا ایران میں اصفہان کے نزدیک جوہری تنصیب پر حملہ

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران میں اصفہان کے نزدیک جوہری تنصیب پر حملہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے حالیہ حملوں کے بعد ایران کی اصفہان جوہری تنصیب کو نقصان پہنچانے کی تصاویر جاری کر دی ہیں, نیا نقصان تقریباً 0.3 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے جہاں سات سٹرکچر مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔
 عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اصفہان پر اسرائیلی حملے میں سینٹری فیوج بنانے کی ورک شاپ نشانہ بنی ہے تاہم اصفہان کے نزدیک جوہری تنصیب میں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا اس لیے اصفہان کے نزدیک جوہری تنصیب پر حملے سے کسی تابکاری کا خدشہ نہیں ہے۔

 آئی اے ای اے  کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے مطابق یہ حملہ 13 جون کے بعد ایران کے کسی ایٹمی تنصیبات پر کیا جانے والا تیسرا اسرائیلی حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا، اس لیے اس حملے کے تابکاری اثرات نہیں ہوں گے، حملے میں صرف سینٹری فیوج تیار کرنے کی سہولت کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں پر یورینیم افزودگی کے لیے آلات تیار کیے جاتے ہیں لیکن جوہری مواد ذخیرہ نہیں ہوتا۔

میکسار کی طرف سے 14 جون کو لی گئی تصاویر میں مختلف مقامات پر کم از کم دو عمارتوں کو واضح نقصان اور آس پاس کے علاقے میں جلنے کا نشان دکھایا گیا ہے۔ اس وقت کوئی بھی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا۔


 

Watch Live Public News