ویب ڈیسک: سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا عیدالفطر کے بعد اگر پی ٹی آئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کرنا چاہتی ہے تو اس میں صدرمملکت آصف علی زرداری اور نوازشریف کو دعوت دیں آنا یا ناں آنا انکی مرضی ہے۔
فواد چودھری نے ’پبلک نیوز‘ کے پروگرام میں اہم سیاسی امور پر بات چیت کی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو نشانے پر رکھا، پروگرام کی میزبان نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے اجلاس میں نہ جانے پر برا منایا ہے وہ کہتے ہیں کہ کم از کم انہیں اعتماد میں لیا جاتا، کیا پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمن کو فیصلے سے آگاہ کرنا چاہیے تھا؟
فوادچودھری نے کہا یہ پہلا موقع نہیں ہے اس سے قبل میں پی ٹی آئی کی جانب سے ایسی حرکات کی گئی ہیں، انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم پر پریس کانفرنسں کی جس میں سلمان اکرم راجہ اور گوہر نے کہا تھا کہ یہ ہماری ترمیم ہے، اور مولانا کو اکیلا چھوڑ دیا۔
پی ٹی آئی نے کہا تھا ہم ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے مذاکرات نہیں کریں گے پھر ایک دن پی ٹی آئی براہ راست مذاکرات کررہی ہے، حکومت کے سب اتحادی ساتھ ہیں اور پی ٹی آئی اکیلی بیٹھی ہوئی ہے۔
فواد چودھری نے اہم خبر دیتے ہوئے کہا کہ دوسری لیڈرشپ بھی پی ٹی آئی سے ایک فاصلہ رکھ کر چل رہی ہے، بالکل بھی نہیں لگ رہا کہ یہ لیڈرشپ عمران خان کو نکالنے کے لئے کچھ کرے گی،
جب تک بانی پی ٹی آئی کی بہنیں یہ ’ریلائز ‘ کرتیں کہ لیڈر شپ نے عمران خان کی رہائی کی مہم چلانی ہے جیسے بشریٰ بی بی نے چلائی تھی مگر عمران خان کیلئے کوئی بڑی موومنٹ ہونا بہت مشکل ہے۔