(ویب ڈیسک )چیئرمین این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال مون سون سیزن معمول سے پہلے شروع ہونے کا امکان ہے اور متوقع بارشیں عمومی اوسط سے پانچ فیصد زائد ہو سکتی ہیں۔
یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے دورہ این ڈی ایم اے کے موقع پر سامنے آئی، شیری رحمان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے تفصیلی بریفنگ دی کہ مون سون سیزن جون کے اختتام پر شروع ہونے کا امکان ہے جو عام طور پر جولائی میں آتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں معمول کے مطابق 344 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، تاہم اس سال یہ مقدار بڑھ کر 388 ملی میٹر تک جا سکتی ہے۔ گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ اور نارووال جیسے علاقوں میں 380 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔ شمال مشرقی پنجاب میں اوسط سے 50 فیصد زائد بارش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شمالی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بارش کی شرح معمول سے کم رہے گی۔
مزید برآں، گرمی کی شدت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خطرہ ہے، جس سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں چیئرپرسن شیری رحمان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر سوال اٹھایا۔ اس پر این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ اس معاہدے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک تفصیلی اسٹڈی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔