(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے فرنٹ سے لیڈ کیا، ہم نے اسی لیے ان کو فیلڈ مارشل بنایا ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے سینئرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے لئے سعودی عرب اور یو اے ای میں سے کسی ایک مقام کا تعین کریں گے، مذاکرات کے دوران امریکا بنیادی کردارادا کرے گا، مشیر قومی سلامتی و ڈی جی آئی ایس آئی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لئے قطعاً کوئی درخواست نہیں کی تھی، اگر ہم نے جنگ بندی کی درخواست کی ہوتی تو عالمی برداری بتا دیتی۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز کی گفتگو میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج جنگ سے پہلی پوزیشن پر جائیں گی، پاک بھارت افواج پہلے والی پوزیشن پر کب جائیں گی ٹایم فریم بھی نہیں بتا سکتے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھارت پر حملے میں جوالفتح میزائل استعمال کیا وہ پاکستان کا اپنا بنایا ہوا تھا، آرمی چیف نے اس پوری جنگ کو تمام افواج کی طرف سے لیڈ کیا، ’رات ڈھائی بجے مجھے آرمی چیف کا غصے سے بھرا فون آیا‘ آرمی چیف نے فون پر کہا کہ بھارت نے حملے کی تیاری کرلی ہے، میں نے آرمی چیف کو کہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، بھارت کو جواب دیں، آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو علاقے کا ایس ایچ او سمجھتا تھا، ہم نے اس کا غرور توڑا، ہم نے صر ف اور صرف اللہ کی رضاکے لئے ملک کی حفاظت کی۔ ہم نے بھارت کو ایسا جواب دیا کہ اس کاگھمنڈ توڑدیا، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری خوشحالی اوردفاع ساتھ ساتھ چلیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے پہلے حملہ کیا جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے تباہ کئے، یہ ہمارا ماسٹر اسٹروک تھا، ہم نے بھارت کا ایس یو400 سسٹم تباہ کیا، ہم بھارت کے مزید طیارے بھی گراسکتے تھے لیکن ہم نے مکمل احتیاط برتی۔ ہم نے تحمل کامظاہرہ کیاورنہ ہم ان کے پرخچے اڑاسکتے تھے، جنگ کے دوران ہمارے تمام دفاعی اداروں میں مکمل کوآرڈی نیشن موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا بھرمیں چین کی مارکیٹنگ کنٹری بن گئے ہیں، جنگ کے دوران ترکیہ، سعودی عرب، یواے ای، آذربائیجان نے ہمارا بے پناہ ساتھ دیا، چین ہمارے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف نے فرنٹ سے لیڈ کیا، ہم نے اسی لیے ان کو فیلڈ مارشل بنایا ہے۔ وزیراعظم سے صحافیوں نے سوال کیا کہ آرمی چیف کو تو فیلڈ مارشل بنادیا گیا ہے، آپ کیا بنے ہیں، جس پر وزیراعظم نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ مجھے پولیٹیکل فیلڈ مارشل کہہ لیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہمارے لیڈر ہیں وہ ہرجگہ ہمارے ساتھ موجود ہیں، نوازشریف صاحب کا بڑا تجربہ ہے جب بھی مذاکرات شروع ہوں گے تو نواز شریف کے وژن کا فائدہ اٹھائیں گے، بھارت اب بھی کہہ رہا ہے ہمارا شملہ معاہدہ موجود ہے بات چیت دوطرفہ ہونی چاہئے۔ کشمیر، پانی، تجارت اور دہشتگردی پر بات ہونی چاہئے، ہم ان کی دہشتگردی کا شکار ہیں، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو یہاں ہمار ی حراست میں ہے۔
صحافی نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ مسلم لیگ ن ماضی میں آرمی چیف کو ایکسٹیشن نہیں دیتی تھی اب کیا ہوگا، اس پر انہوںنے جواب دیا کہ آرمی چیف نے عزت کمائی ہے پرانی اسکور سیٹنگ چھوڑ دیں ، ہم آج کے حالات میں چل رہے ہیں ہم بالکل کلیئر ہیں کہ ہم نے ماضی کے جھرکوں میں نہیں جانا، آج مقام شکر ہے پوری قوم کی خوشی ہے اس کو قبول کرناچاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایئر مارشل ظہیر بابر اور نیول چیف نے بھی بہترین کام کیا، ایئر مارشل ظہیر بابر نے بہترین منصوبہ کی اسی لئے میں نے کہاہے کہ ہم ان کو ایکسٹیشن دیں گے۔