ویب ڈیسک: دبئی میں جاری ٹی20 ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کے نوجوان آل راؤنڈر صائم ایوب ایک غیر متوقع ہیرو کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ان کی بیٹنگ کارکردگی نے شائقین کو بارہا مایوس کیا ہے، وہیں گیند کے ساتھ ان کی شاندار کامیابیاں سب کو حیران کر رہی ہیں۔
ایوب کی یہ دوہری کہانی نہ صرف ماہرین کرکٹ کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ پاکستانی ٹیم کے لیے بھی ایک نئی حکمتِ عملی کا اشارہ دے رہی ہے۔
اب تک کے میچوں میں صائم ایوب نے پاور پلے کے دوران شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 اہم وکٹیں حاصل کی ہیں، جن کا اوسط صرف 5.60 رنز رہا ہے۔ یہ کارکردگی اس لیے بھی خاص ہے کہ ایوب نے پاور پلے میں بھارتی اسٹار باولر جسپریت بمراہ سے بھی زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان سلمان آغا اکثر انہیں اننگز کے دوسرے ہی اوور میں گیند تھما دیتے ہیں تاکہ حریف بلے بازوں پر فوری دباؤ ڈالا جا سکے۔
تاہم بیٹنگ کے شعبے میں صائم ایوب کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ 2023 میں ڈیبیو کرنے والے اس نوجوان بیٹر سے مداحوں کو بڑی امیدیں تھیں لیکن 44 میچوں میں وہ صرف چار نصف سنچریاں ہی بنا سکے ہیں اور اتنی ہی بار پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہونے کا مایوس کن ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔ بیٹنگ میں اس عدم تسلسل نے ماہرین کرکٹ اور شائقین دونوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اس کے باوجود ایوب کی بولنگ نے پاکستان کو اس ایشیا کپ میں نئی جہت فراہم کی ہے۔ بھارت کے خلاف گزشتہ میچ میں انہوں نے شبھمن گل اور تلک ورما جیسے بڑے ناموں کو شکار بنایا اور تین اہم وکٹیں لے کر میچ کے سب سے مؤثر بولر کے طور پر ابھرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صائم ایوب کی کہانی کسی حد تک شاہد آفریدی کی یاد دلاتی ہے، جو بیٹنگ میں غیر یقینی لیکن گیند کے ساتھ کمال دکھا کر ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھتے تھے۔ موجودہ فارم سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایوب بیٹنگ کے بجائے اپنی نپی تلی بولنگ کے ذریعے پاکستان کے لیے اہم ہتھیار بن سکتے ہیں، جس سے گرین شرٹس کو مستقبل میں نئی توازن والی ٹیم بنانے میں مدد ملے گی۔