نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن بیٹ چیف کا تہلکہ خیز انکشاف

نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن بیٹ چیف کا تہلکہ خیز انکشاف
کیپشن: نیتن یاہو کیخلاف اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن بیٹ چیف کا تہلکہ خیز انکشاف

ویب ڈیسک: اسرائیل کی خفیہ ایجنسی شن بیٹ (Shin Bet) کے سربراہ رونن بار نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے سیکیورٹی ادارے پر دباؤ ڈالا اور انکار پر انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔

پیر کے روز اسرائیلی سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں رونن بار نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے بارہا مطالبہ کیا کہ شن بیٹ حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد اور ان کے مالی معاونین کے خلاف کارروائی کرے۔ جب انہوں نے یہ غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کیا، تو نیتن یاہو نے ان کی برطرفی کی کوشش کی۔

رونن بار کے مطابق، نیتن یاہو کی جانب سے یہ دباؤ صرف سیاسی مظاہرین تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہوں نے ایک ایسی سیکیورٹی دستاویز پر دستخط کرنے کا بھی کہا، جس کا مقصد وزیر اعظم کو کرپشن کیسز میں گواہی سے بچانا تھا۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو پر بدعنوانی، رشوت ستانی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی جیسے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ ماہ نیتن یاہو نے رونن بار کو عہدے سے برطرف کرنے کا حکم دیا، تاہم سپریم کورٹ نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس فیصلے کو معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد اسرائیل بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں وزیر اعظم پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگائے گئے۔

نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ وہ شن بیٹ چیف کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اچانک حملے میں ناکامی کے باعث برطرف کرنا چاہتے تھے، جس میں 1,100 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔ لیکن رونن بار نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطرفی کی کوشش دراصل نومبر 2024 سے فروری 2025 کے دوران پیش آنے والے واقعات سے جڑی ہے۔

رونن بار نے تسلیم کیا کہ حماس کے حملے کو روکنے میں شن بیٹ ناکام رہا، اور کہا کہ وہ جلد اپنے استعفیٰ کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی ایجنسی وزیر اعظم کے دفتر اور قطر کے درمیان مالی تعلقات کی چھان بین کر رہی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی کوشش کی گئی۔

وزیر اعظم کے دفتر نے رونن بار کے بیان کو "جھوٹ سے بھرپور" قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اس تنازع نے اسرائیل کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، اور نیتن یاہو حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور عوامی احتجاج نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

Watch Live Public News