(ویب ڈیسک) 22 اپریل 2025 مقبوضہ کشمیر کی بائیسرن ویلی میں 26 شہری ہلاک (اکثریت ہندو سیاح، جن میں ایک عیسائی اور ایک مقامی مسلمان شامل تھے)، جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے۔حملہ آوروں نے AK-47 اور M4 کاربائنز استعمال کیں، اور ایک سیاحتی مقام کو نشانہ بنایا جہاں بھاری عسکری موجودگی کے باوجود سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر تھی۔
فوری الزام تراشی اور بیانیہ کی تشکیل:
حملے کے ایک گھنٹے کے اندر بھارتی میڈیا اور اداروں نے ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اسے “ پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی” قرار دیا۔
الزام دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) پر عائد کیا گیا، جسے پاکستان کی پا بندی شدہ تنظیم لشکرِ طیبہ سے منسلک بتایا گیا، اور اس کی بنیاد “ٹیکنیکل انٹیلیجنس اور فیشل ریکگنیشن” کو قرار دیا گیا۔تاہم، کوئی عوامی طور پر قابلِ تصدیق ثبوت، فرانزک ڈوزیئر، انٹرسیپٹس یا آزاد تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
ٹی آر ایف نے 2 مرتبہ ذمہ داری قبول کی (مقام کی تصاویر کے ساتھ)، مگر بعد ازاں “رابطے میں خلل” کا حوالہ دیتے ہوئے انکار کر دیا، جس سے تضادات پیدا ہوئے۔
آپریشنل خلا اور سیکیورٹی تضادات:
حملہ آور 25–30 منٹ تک ایک ہائی سیکیورٹی اور بھاری عسکری زون میں بلا تعطل کارروائی کرتے رہے، جبکہ 10 منٹ کے فاصلے پر موجود بھارتی افواج بروقت مدد کو نہ پہنچ سکیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور فوجی طرز کے یونیفارم میں ملبوس تھے، گھنے جنگلات سے نمودار ہوئے، اور حملہ منظم انداز میں کیا گیا۔
مقام لائن آف کنٹرول سے تقریباً 150–200 کلومیٹر دور ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حملہ آور اتنا فاصلہ طے کر کے جائے وقوعہ تک کیسے پہنچے۔
یہ پہلو مقامی معاونت، انٹیلیجنس ناکامی یا آپریشنل خلا کے امکانات کو تقویت دیتا ہے۔ فوری ردعمل کا نہ ہونا “صرف سرحد پار دراندازی” کے بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔
فرقہ وارانہ بیانیہ اور اس کی توسیع:
دعوے گردش میں آئے کہ حملہ آوروں نے مذہب یا کلمہ پوچھ کر غیر مسلموں کو نشانہ بنایا۔تاہم، عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد پایا گیا اور آزاد فرانزک تصدیق بھی موجود نہیں۔
یہ بیانیہ داخلی فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو بڑھاتا ہے اور “ہندو مظلومیت” کے بیانے کو مضبوط کرتا ہے۔حملے نے آرٹیکل 370 کے بعد مودی حکومت کے“نارملسی، استحکام اور سیاحت کی بحالی” کے دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کردیا۔
سفارتی کشیدگی اور عسکری حکمتِ عملی:
بھارت کے اقدامات:
سندھ طاس معاہدے کی معطلی
سرحدی بندش اور تجارت کی معطلی
عسکری کارروائیاں (آپریشن سندور، مئی 2025)
پاکستان کا ردعمل:
فوری مذمت
دہشتگردی کاروائیوں میں شمولیت سے انکار اور غیرجانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی پیشکش
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اور بھارتی اقدامات کے بعد جوابی اقدامات
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو “جنگی اقدام / آبی جارحیت” قرار دیا گیا
حملے کے بعد کریک ڈاؤن اور اقلیتوں پر اثرات:
72گھنٹوں کے اندر کشمیر میں وسیع سیکیورٹائزیشن اور کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔تقریباً 2,800 گرفتاریاں/حراستیں ہوئیں (PSA اور UAPA کے تحت)، جن میں صحافی اور عام شہری بھی شامل تھے، کومبنگ آپریشنز، کمیونیکیشن بلیک آؤٹ اور سوشل میڈیا کی بندش نافذ کی گئی،ہراسانی، پروفائلنگ اور معاشی نقصان کے اثرات خاص طور پر سیاحت سے وابستہ مسلم کمیونٹیز پر پڑے۔
اے پی سی آر(APCR )کے مطابق 184 نفرت انگیز جرائم رپورٹ ہوئے، جن میں 316 افراد متاثر ہوئے (23 اپریل تا اوائل مئی 2025)۔
انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق 10 دنوں میں 64 اینٹی مسلم نفرت انگیز تقاریر ہوئیں، جبکہ 2025 میں 1,318 واقعات رپورٹ ہوئے (جن میں 98% مسلمانوں کے خلاف تھے)۔
کشمیری مسلمانوں کو متعدد ریاستوں میں بے دخلی، حملوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا؛ Q2 2025 میں 180 سے زائد واقعات اور 100 سے زائد حملے رپورٹ ہوئے۔
نومبر 2025 میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے من مانی گرفتاریاں، نگرانی اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔
بعد از پہلگام وسیع تر اقلیتی دباؤ :
سکھ کمیونٹی کو نگرانی، ہراسانی اور سرگرمیوں پر دباؤ کا سامنا رہا؛ USCIRF نے صورتحال کے بگڑنے کی نشاندہی کی۔عیسائی کمیونٹی کے خلاف 2025 میں تقریباً 900 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ہجوم کے حملے، چرچ کی توڑ پھوڑ، تدفین سے انکار اور اینٹی کنورژن قوانین کا غلط استعمال شامل ہے۔
مجموعی طور پر جون 2024 تا جون 2025 کے دوران 947 نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں مسلمان اور عیسائی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
بعد کے دعوے اور تصدیقی خلا:
جولائی 2025 میں بھارت نے دعویٰ کیا کہ تین حملہ آور (مبینہ طور پر پاکستان کی پا بندی شدہ تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ) مارے گئے۔تاہم، ان کی شناخت، وابستگی یا شواہد کی کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا۔
اسٹریٹجک تناظر اور پالیسی کی نقاب کشائی:
2019 کے بعد خطہ براہِ راست مرکزی کنٹرول اور بھاری فوجی موجودگی میں رہا ہے۔اس حملے نے “زیرو ٹیررازم” اور “نارملسی” کے بیانیے اور سیاحتی سیکیورٹی فریم ورک میں موجود خلا کو بے نقاب کیا۔ماہرین نے اسے پالیسی، انٹیلیجنس اور گورننس کی ناکامی قرار دیا۔
بین الاقوامی ردعمل میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی، تاہم ریاستی سرپرستی کے غیر مصدقہ دعوؤں کی توثیق نہیں کی گئی۔ بھارت نے غیرجانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی تجاویز مسترد کر دیں۔
اہم تجزیاتی نکات:
ایک گھنٹے کے اندر پاکستان پر الزام عائد کیے جانے سے ابتدائی بیانیہ طے ہو گیا۔مضبوط دعوؤں کے باوجود شفاف اور قابلِ تصدیق شواہد کا فقدان رہا۔ٹی آر ایف (TRF) کے بیانات میں واضح تضادات (قبولیت اور انکار) سامنے آئے
بھاری عسکری زون میں نمایاں آپریشنل تضادات دیکھنے میں آئے۔
فرقہ وارانہ بیانیہ بغیر آزاد تصدیق کے فروغ دیا گیا۔اندرونی سطح پر کریک ڈاؤن اور اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔بیرونی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا، مگر غیرجانبدار تحقیقات سے گریز کیا گیا۔
نتیجہ:
پہلگام حملہ آپریشنل لحاظ سے اہم، سیاسی طور پر حساس اور شواہد کے اعتبار سے متنازع واقعہ ہے۔فوری الزام تراشی، آزاد تصدیق کے فقدان اور بعد ازاں سخت داخلی اقدامات نے شکوک و شبہات کو برقرار رکھا۔
موجودہ بیانیے زیادہ ترداخلی اور سفارتی مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ مکمل طور پر ثابت شدہ حقائق۔
بھارت پہلگام واقعے کے بعد اپنے مکرو فریب سے دنیا سے متاثر نہیں کر سکا بلکہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کا حامل ملک بن گیا۔ دنیا کے کسی ملک نے بھارت کے کہنے پر پاکستان پردہشت گردی کا الزام نہیں لگایا۔