مقبوضہ جموں و کشمیر میں گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد

مقبوضہ جموں و کشمیر میں گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد
کیپشن: مقبوضہ جموں و کشمیر میں گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد

ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں و کشمیر میں گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد۔  12 اپریل 2026 کو، مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع رام بن میں کشمیری مسلمان نوجوان تنویر احمد چوپان گاؤ رکھشکوں کے حملے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔
 تنویر احمد کے پاس مویشیوں کی منتقلی کی باقاعدہ اجازت موجود تھی اور وہ ایک گائے اور دو بچھڑوں کو جموں سے اپنے آبائی گاؤں رام بن لے جا رہا تھا۔  جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر اسے کار سوار افراد نے، جن پر گاؤ رکھشک ہونے کا شبہ ہے، روکا، پتھراؤ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ جان بچانے کی کوشش میں وہ تیز بہاؤ والے نالے میں کود گیا۔ واقعے کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہے۔  اس واقعے نے پورے خطے میں شدید غم و غصہ اور احتجاج کو جنم دیا۔
مقامی افراد اور متاثرہ خاندان نے لاش کی بازیابی اور انصاف کے مطالبے کے لیے کئی گھنٹوں تک قومی شاہراہ بلاک کیے رکھی۔  مظاہرین کا الزام ہے کہ ہندو شدت پسند تنظیمیں ماضی میں بھی علاقے میں مسلمانوں پر ایسے حملے کر چکی ہیں اور ان پر گائے ذبح کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ خود ساختہ گاؤ رکھشک مسلمان مخالف تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے گائے کے تحفظ کا بہانہ استعمال کرتے ہیں تاکہ اکثریتی تسلط قائم کیا جا سکے۔
گائے سے متعلق ہجومی تشدد تیزی سے معمول بنتا جا رہا ہے اور شاذ و نادر ہی اس پر سزا دی جاتی ہے، جس کے باعث بھارت میں مسلمان مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
2026 کے آغاز سے اب تک رام بن میں گائے سے متعلق تشدد کے چار بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جہاں مسلمانوں کو معمولی اختلاف رائے پر بھی دہشت گرد قرار دے کر یو اے پی اے کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں یہ انتہا پسند گاؤ رکھشک ادارہ جاتی سرپرستی میں کھلے عام کارروائیاں کرتے ہیں اور اکثر مقامی پولیس و انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان اس گھناؤنے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے جو بھارت میں نفرت پر مبنی تشدد کے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کا حصہ ہے۔ بہار اور اتر پردیش میں ہجومی قتل سے لے کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں نشانہ بنائے گئے حملوں تک، مذہبی اقلیتوں کو منظم انداز میں ریاستی سرپرستی یافتہ گروہوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بے گناہ افراد کا قتل اور سرعام لنچنگ ایک قرونِ وسطیٰ کی وحشیانہ روایت ہے جس کی 21ویں صدی میں کوئی جگہ نہیں۔
یہ اس ملک کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان ہے جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر اپنی سڑکوں پر 18ویں صدی کی بربریت کو فروغ دے رہا ہے۔ مونو مانیسر جیسے بدنام زمانہ گاؤ رکھشک رہنماؤں کو ضمانت دینا اور ملزمان کا جشن کے ساتھ استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنا تشدد انتہا پسند ہجوم کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ خوف اور تشدد کا نظام مسلمانوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ جب ریاست کا قانون ہجوم کے قانون سے بدل دیا جائے تو بھارت میں قانون کی حکمرانی ایک کھوکھلا دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے جو صرف کمزور طبقات کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔
 عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس بڑھتے ہوئے رجحان کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ 2026 کی ایک ماہرین کی رپورٹ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

Watch Live Public News