کاش اس ٹیم کا اعلان نہ ہوتا تو اس پر غور کرتے ، نجم سیٹھی

کاش اس ٹیم کا اعلان نہ ہوتا تو اس پر غور کرتے ، نجم سیٹھی
لاہور: پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کاش اس ٹیم کا اعلان نہ ہوتا تو اس پر غور کرتے اور نئے آئیڈیاز کے ساتھ کام کرتے ۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ آج کمیٹی کا پہلا اجلاس ہے اور اس میں جو بھی فیصلے ہوں گے ان سے آپ کو آگاہ کریں گے، 4 سال کے بعد آیا ہوں، بہت کام کرنا ہے، ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ کو ٹھیک کرنا ہے کیونکہ ہم ڈپارٹمنٹل کرکٹ بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ روز گار ملے۔ چیئرمین پی سی بی کمیٹی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا مؤقف ہے کہ ٹیم بھی تبدیل کریں اور کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ ابھی ٹیم کو نہیں چھیڑنا چاہیے، اب ٹیم کا اعلان ہوچکا ہے، پتا نہیں مناسب ہے بھی یا نہیں ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی لائی جائے یا اسے ایسے ہی رہنے دیا جائے، اس پر ہم بات کرلیں گے ، کاش اس ٹیم کا اعلان نہ ہوتا تو اس پر غور کرتے اور نئے آئیڈیاز کے ساتھ کام کرتے مگر اب اسے بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی نہیں پتا کہ کتنی گہرائی میں کیا فیصلے ہوئے ہیں اور اس کے پیچھے کیا سوچ تھی جبکہ بھارت کا جہاں تک معاملہ ہے تو اس پر حکومت کی رائے لینی پڑتی ہے اور ہدایات وہیں سے ملتی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے رمیز راجا سے کوئی تصادم نہیں ہے ، میں تو پہلے بھی خود استعفیٰ دے کر چلا گیا تھا جبکہ نئی حکومت آئی تو مجھے انتہائی اعلیٰ سطح سے پیغام دیا گیا کہ آپ نے کہیں نہیں جانا آپ بیٹھے رہیں ہماری بات چیت ہوگئی ہے آپ کو نہیں ہلایا جائے گا لیکن میں نے دیکھا یہ مناسب نہیں ہے ، پیٹرن انچیف کا حق ہے کہ وہ جس کو لائے ، ہمارا تصور تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا ویژن چیزوں کوبہتر کرے گا اس لیے میں نے عزت کے ساتھ گھر جانے کو ہی ترجیح دی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی بہت اہم ہوتی ہے اگر اچھی کارکردگی نہ ہو تو لوگوں کو تبدیلی لانے کا موقع مل جاتا ہے اور کارکردگی اچھی نہ ہوتو تبدیلی کا جواز نہیں بنتا اور ہم نے بہت کچھ ڈیلیور کیا ہے اور ہماری لسٹ بہت لمبی ہے جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران کو 4 سال موقع ملا اس پر میں کچھ نہیں کہوں گا ، یہ سب جانتے ہیں کہ کتنی کامیابی ہوئی ہے اور کتنی نہیں ، اب آگے دیکھیں گے، کرکٹ کی کامیابی کیلئے جو بھی ہوسکا کریں گے۔ نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں ریڈ فلیگ نہیں اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم پشاور نہ جائیں ، وہاں اسٹیڈیم تیار ہورہا ہے اور بات ہوچکی ہے وہ چھ ماہ میں اسٹیڈیم تیار کردیں گے اور پھر ہم پشاور جاکر کھیلیں گے۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔