ویب ڈیسک: وسطی امریکی ملک ایل سلواڈور کی ایک عدالت نے دنیا کے بدنام ترین جرائم پیشہ گینگ کے رکن کو مجموعی طور پر 1300 سال سے زائد قید کی سزا سنا دی ہے۔
برطانوی ویب سائٹ ڈیلی اسٹار کے مطابق، بدنام زمانہ گینگ ایم ایس-13 کے رکن مارون ایبل کو قتل، بھتہ خوری، اغوا، جبری گمشدگی اور غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے متعدد الزامات میں مجموعی طور پر 1 ہزار 335 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ اس کے سنگین اور منظم جرائم کے طویل ریکارڈ کی بنیاد پر دیا گیا۔
ایل سلواڈور کے پراسیکیوٹرز کے مطابق مارون ایبل پر وحشیانہ قتل، خواتین کے قتل، افراد کی جبری گمشدگی، بھتہ خوری، غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں اور مجرمانہ گروہوں سے وابستگی کے الزامات ثابت ہوئے، جس کے بعد عدالت نے سخت ترین سزا سنائی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایم ایس-13 کے ارکان کو بھاری سزائیں دی گئی ہوں۔ 18 دسمبر کو بھی پراسیکیوٹرز نے اسی گینگ کے 248 ارکان کو مختلف مقدمات میں قید کی سزائیں دلوائیں، جن کا دورانیہ 463 سے 958 سال تک تھا۔
ایل سلواڈور کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق یہ کارروائیاں ملک میں منظم جرائم اور گینگز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 169 افراد براہِ راست متاثر ہوئے۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ایم ایس-13 کے سنگین جرائم میں دسمبر 2021 میں بہن بھائی کیرن اور ایڈوارڈو گیریرو ٹولیدو کا قتل اور گمشدگی، اکتوبر 2021 میں فٹبالر کلاڈیا جمیینا گراناڈوس کی گمشدگی اور قتل، مارچ 2019 میں ایک یونیورسٹی طالب علم کا قتل اور اپریل 2020 میں ایک اور طالب علم کی گمشدگی اور قتل شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گینگ کی جانب سے کاروباری افراد سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا، انکار کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں، جس کے باعث کئی افراد اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے۔
مجموعی طور پر 248 ایم ایس-13 ارکان کے خلاف 43 شدید قتل، 42 جبری گمشدگی، 3 خواتین کے قتل، 86 بھتہ خوری، 29 قتل کی سازش، 32 غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کی تیاری، 5 غیر قانونی جائیداد پر قبضے اور غیر قانونی تنظیم سازی کے مقدمات درج کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایم ایس-13 اور اس کا حریف گینگ باریو 18، حکومت کی 2022 میں منظم جرائم کے خلاف شروع کی گئی کارروائی سے قبل ایل سلواڈور کے تقریباً 80 فیصد علاقے پر قابض تھے۔ ایل سلواڈور دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قتل کی شرح انتہائی بلند رہی ہے اور گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ان دونوں گینگز کو تقریباً دو لاکھ افراد کے قتل کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایم ایس-13 کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے ظالم اور خطرناک گینگ قرار دیا تھا۔