بادشاہت ہوئی توووٹ کی طاقت سے ہوگی،بغیرانصاف پاکستان نہیں چل سکتا،اچکزئی

بادشاہت ہوئی توووٹ کی طاقت سے ہوگی،بغیرانصاف پاکستان نہیں چل سکتا،اچکزئی
کیپشن: بادشاہت ہوئی توووٹ کی طاقت سے ہوگی،بغیرانصاف پاکستان نہیں چل سکتا،اچکزئی

ویب ڈیسک: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے کراچی میں وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عملا مارشل لا ہے،آئین اور قانون ختم ہو چکا،جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتی وہ تباہ ہوجاتی ہیں،25کروڑ عوام کا پیکا کے ذریعے گلہ گھونٹ دیا گیا،پورے ملک کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا،ملک کو بچانے کے لیے سب کو کوشش کرنی ہے،انسان دوست تحریک وجود میں آچکی۔

تفصیلات کے مطابق سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ملک میں جمہوریت چائیے۔ پاکستان تحریک انصاف انسانیت کے لیے بات کر رہی ہے۔ ظلم جہاں بھی ہو ظلم ہوتا ہے۔ بلوچستان میں ہو یا سندھ میں ہو ،ہم کے پی کے اور پنجاب کے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ہم گلگت بلستان کو پاکستان میں شامل کریں گے۔کشمیر کی جنگ لڑیں گے۔ میں پوری قوم کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے قافلے میں شامل ہو جائیں۔

سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان سے جب بھی ملاقات ہوئی مجھے ان کا جزبہ غیر متزلزل نظر آیا،وہ ہمیشہ کمزور محکوم اورمظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دیتے ہیں،ہم نکلیں گے اور اس ملک کو بچانے کے لیے جنگ لڑیں گے۔ملک میں جمہوریت پر یقین رکھنے والے اکھٹے ہو رہے ہیں۔غریب سے اس کا حق چھین لیا گیا ہے۔ انسان دوست تحریک وجود میں آچکی ہے۔

محمود خان اچکزئی 

سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے نہ یہاں کوئی غلام ہے اور نہ کوئی آقا ہے۔پاکستان تب خوشحال ہوگا جب پنجابی، سندھ پٹھان اور بلوچ خوشحال ہوگا۔پاکستان ایک آئین کے تحت چل سکتا ہے۔ آئین ایک سوشل معاہدہ ہے۔ آئین ہر شہری کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے۔ہم نے ہمیشہ وفاق کی بات کی ہے۔ 

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ صمد اچکزئی کے کسی ورکرز نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہیں لگایا۔جس پاکستان میں ہمیں دہشت گرد بنایا جائے غدار بنایا جائے وہاں کیا ہوگا۔بغاوت کے آثار پیدا نہیں جب ان کے وسائل پر ان کے حق کو مان لیا جائے۔ہر ادارہ اپنے فریم میں رہے۔ سب لوگ اپنا اپنا کام کریں،پاکستان بہت اچھا ملک ہے پاکستان نے چلنا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان واحد اتحاد ہے جو کسی کے کہنے پر نہیں بنا۔

انہوں نے کہاکہ اس ملک میں بادشاہت ہو گی تو ووٹ کی طاقت سے ہوگی۔پارلیمان کو طاقت کا سرچشمہ بنانا آسان کام نہیں۔ ہمیں منظم ہونا ہوگا۔ صف بندی کرنی ہوگی۔جیتا کوئی اور ہے وزیراعظم کوئی اور بیٹھا ہے اس پر پیکا نہیں لگنا چائیے ؟آئین توڑنے والوں کو سزا ملنی چائیے۔تحفظ آئین پاکستان اس لیے معرض وجود میں آیا ہے کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے۔جہاں انصاف نہیں ہوگا وہ ملک نہیں چل سکتا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم سب کو مل کر توبہ کر کے اس ملک کو مسائل سے نکلانا ہوگا،ہم نے اسلام آباد میں 26 اور 27 تاریخ کو دو روزہ سیمنار بلایا ہے سب کو دعوت ہے۔بحران اگر شدید ہوگا تو ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ملک کو بچانے کے لیے سب کو کوشش کرنی ہے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سٹی کورٹس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے پاس کراچی اس لیے آئیں ہیں کہ کراچی سے جو تحریک چلتی ہے تو پورے ملک میں تحریک چلتی ہے،ملک میں عملا مارشل لا ہے۔ آئین اور قانون ختم ہو چکا ہے۔اس وقت ملک میں جنگل کا قانون ہے۔ لوگوں کے کاروبار ختم کیا جارہا ہے۔کراچی پاکستان کے لیے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی جاگتا ہے تو پورا ملک جگتا ہے،ہمیں اپنے حقوق کے لیے نکلنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو نے آئین کی بنیاد رکھی اور اس کا نواسہ اس کو دفنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر ہے،پیپلز پارٹی کا نظریہ ختم ہو چکا ہے،پورے ملک کے ججز مظلوم ہیں انصاف کے متلاشی ہیں  غریب عوام کہاں جائیں؟،بلوچستان کے 8 اضلاع میں عملا حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے،ایک ہی راستہ ہے کہ ملک میں آئین کو بحال کیا جائے، عمران خان ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے۔ہم نے اسلام آباد میں دو روزہ سیمنار بلا یا اس میں ہم قومی ایجنڈہ دیں گے۔

سردار لطیف کھوسہ 

سردار لطیف کھوسہ نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر قائد کے باسیو آج دھرتی ماں مدد کے لیے پکار رہی ہے۔آج کالے کوٹ کی آزمائش کا وقت ہے۔ تصور پاکستان کالے کوٹ والے علامہ اقبال نے دیا،بیرسٹر قائد اعظم نے اس خواب کو حقیقی جامہ پہنایا،ہم غداری کے فتوے آج تک دیتے آئے ہیں۔ فاطمہ جناح کو سیکورٹی رسک قرار دیا گیا۔ہم نے لیاقت علی خان کے قاتل کو بھی مار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مجیب الرحمن نے 160 سیٹیں جیتیں ہم نے اس کو اقتدار نہیں دیا پابند سلاسل کر دیا۔جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتی وہ تباہ ہوجاتی ہیں،ملک توڑنے والو کو سزا نہیں دی گئی۔ کوئی فوج اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب تک عوام کی محبت اس کے ساتھ شامل نہ ہو،25کروڑ عوام کا پیکا کے ذریعے گلہ گھونٹ دیا گیا،پورے ملک کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔

سردارلطیف کھوسہ نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنی اپنی سٹیں ہارے ہیں۔کون حکومت چلا رہا ہے ؟؟ کیا شہباز شریف حکومت چلا رہا ہے ؟؟ ملک میں ایک ہی مجاہد ہے جو جیل میں بیٹھا ہے۔ اس کا مرنا جینا پاکستان کے ساتھ ہے۔ یہ پاکستان اشرفیہ کا پاکستان نہیں بلکہ سب کا پاکستان ہے۔ ہمیں اپنے پاکستان کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔ ہمیں قربانی دینا پڑے گی،کراچی سے تحریکیں اٹھتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں۔

Watch Live Public News