کراچی: مصطفیٰ کے اغواء اور قتل کی کہانی، ارمغان کے دوست شیراز کی زبانی، مصطفیٰ کو کئی گھنٹے تشدد کا نشانہ بنایا ، کپڑوں سے باندھا اور حب میں لےجاکر جلا دیا ۔
شیراز نے بتایا کہ لڑکی سے ناراضگی نے ارمغان کو پاگل کردیا اور پھر مصطفیٰٰ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ، مصطفیٰٰ اور ارمغان نے پہلے منشیات کا استعمال کیا، منشیات کے استعمال کے بعد ارمغان نے ڈنڈا نکالا اور تشدد کرنا شروع کردیا۔
شیراز نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گھر سے پیٹرول کا ڈرم لے کر مصطفیٰ کی گاڑی میں رکھا ،مصظفیٰ کو زخمی حالت میں گاڑی میں ڈالا ، مصطفی کے ہاتھ اور پائوں سے خون نکل رہا تھا،مصطفیٰ کو جب گھر سے گاڑی میں ڈالا تو وہ زندہ تھا، نیو ایئر نائٹ کو ارمغان مصطفیٰ سے ناراض ہوگیا تھا۔
شیراز نے بتایا کہ لالچ اور مصطفیٰ کی لگژری لائف نے مجھے متاثر کیا ،نوجوانوں کو مشورہ ہے لگژری لائف سے متاثر نہ ہوں،مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگانے کے بعد کئی گھنٹے پیدل چلتے رہے۔
ملزم شیراز کا کہنا تھا کہ ارمغان میرے بچپن کا دوست ہے ، تعلیم بھی ساتھ حاصل کی۔
کچھ عرصے پہلے ارمغان اور میری دوستی ختم ہوگئی تھی ،ارمغان گھر آیا تو پھر دوبارہ دوستی ہوگئی ، مڈل کلاس کے پاس پیسوں کی ریل پیل نے حیران کردیا تھا ،ارمغان اپنی والدہ اور والد سے بہت کم ملتا تھا ،ارمغان ذہنی طور پر مضبوط انسان ہے۔
ملزم شیراز نے بتایا کہ میں نے اور ارمغان نے کئی پارٹیاں ساتھ کی ہیں ، ملزم شیراز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مصطفیٰ اور ارمغان دوست نہیں ہیں ،مصطفیٰ، ارمغان کو منشیات سپلائی کرتا تھا۔
دوسری جانب پولیس کو ملزم ارمغان کے غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزمان نے وقوعہ سے ایک روز قبل (زوما) نامی لڑکی پر بھی تشدد کا اعتراف کیا ہے، ملزم ارمغان کے بنگلے سے 5 بلڈ صواب اور 4 کارپیٹ کے ٹکڑے کے ڈی این اے کروائے گئے۔
کارپیٹ کے ٹکڑے پر لگا خون مدعیہ کے خون سے میچ ہوا، 2 کارپیٹ کے ٹکڑوں پر لگا خون کسی نامعلوم عورت کے ہونے کا سامنے آیا، ملزمان نے دوران تفتیش ایک لڑکی کو مارپیٹ کرکے زخمی کرنے کا اعتراف کیا۔
ریمانڈ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے وقوعہ سے ایک روز قبل اسی کمرے میں لڑکی کو مارپیٹ کرکے زخمی کیا تھا، ملزمان کی نشاندہی پر لڑکی کا بھی پتہ لگانا ہے، بیان لینا ہے اور اس کے بلڈ سیمپل کا ڈی این اے بھی کرانا ہے۔
ملزم ارمغان تھانہ بوٹ بیسن، کلفٹن، ساحل اور درخشان کے کئی مقدمات میں نامزد و مفرور ہے، ملزم ارمغان کال سینٹر اور ویئر ہاؤس چلارہا تھا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔