ویب ڈیسک: انسداد دہشتگردی عدالت نے مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے کے مقدمہ میں پی ٹی آئی رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید و دیگر پر 4 فروری کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 9 مئی مقدمہ کی سماعت ہوئی، اے ٹی سی کے جج ارشد جاوید نے 9 مئی کو مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے کے کیس کی سماعت کی۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری اور عمر سرفراز چیمہ کو جیل سے عدالت پیش کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید سمیت دیگر ملزمان حاضری کیلئے عدالت پیش ہوئے۔
عدالت نے مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے کے کیس میں فردجرم کیلئے 4 فروری کی تاریخ مقرر کردی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں پر بغاوت اور کارکنان کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کا الزام ہے، ایک مقدمہ میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر گزشتہ سماعت پر فرد جرم عائد ہوئی تھی ، ملزمان پر مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے کے دو مقدمات تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درج ہیں۔
ملزمان پر عدالت نے مقدمہ نمبر 366/23 میں گزشتہ سماعت پر فرد جرم عائد کی تھی ،آئندہ سماعت پر مسلم لیگ نون کا دفتر جلانے کے مقدمہ 367/23 میں فرد جرم آئندہ سماعت پر عائد ہو گی ۔
یاسمین راشد کی میڈیاٹاک
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کمرہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے باوجود اعجاز چودھری کو پیش نہیں کیاگیا،یہ ایک کٹھ پتلی حکومت ہے،انہوں نے ساری جمہوریت کو تباہ کر دیا،190 ملین پاؤنڈ کیس کا بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کوئی تعلق نہیں،یہ سارے پیسے سپریم کورٹ کے پاس ہیں،آپ کو کس بات کا ڈر ہے؟ مزاکرات کیوں نہیں کرتے؟ہم کہ رہے ہیں 2 کمیشن بنائیں اور بتائیں کس نے 26 کو گولی چلائی؟۔
یاسمین راشد نے کہا کہ احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے،سوا لاکھ سے زیادہ ریڈز کی ہیں،21 مہینے سے ہم اندر ہیں،آن لوگوں کے خوابوں میں عمران خان آ رہا ہے،ہمارے سے یہ اتنا ڈرتے ہیں ایک تصویر بھی باہر نہیں آنے دیتے،عمران خان سے کتنا ڈرتے ہونگے یہ لوگ ،خان کو ڈر کے مارے ان لوگوں نے اندر رکھا ہوا ہے،آپ آخر کب تک ہمیں روک سکتے ہیں ہم بیٹھے ہوئے ہیں،پارٹی ابھی تک قائم ہے اور ہم کھڑے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے مزید کہا کہ ظلم کے آگے کچھ بھی نہیں چلتا،اللہ زرداری کو خوش رکھے اس نے خود پیپلز پارٹی کو ڈبویا،ہمارے وقت میں سب سے زیادہ اسپتال بنے ہیں،جناح میں کارڈیالوجی کا بلاک بھی ہم نے بیانا ہے۔