حکومت کا اسٹارلنک کو لائسنس دینے سے انکار

حکومت کا اسٹارلنک کو لائسنس دینے سے انکار
کیپشن: حکومت کا اسٹارلنک کو لائسنس دینے سے انکار

ویب ڈیسک: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایلون مسک کی اسٹارلنک کو لائسنس دینے سے انکار کردیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نےایلون مسک کے بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کی سرگرمیاں پاکستان مخالف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ   اسٹارلنک کو اس وقت لائسنس نہیں دے سکتے جب تک حکومتی کلیئرنس نہیں ہوگی۔  

سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ کیا اس کے ریگولیٹری میکانزم کا سوچا گیا ہے۔ جو خلاف ورزی کے کیسز آئیں گے تو وہ کس کے پاس جائیں گے۔ ابھی تک وہ آئے نہیں تو ایک مہم چل رہی جب آئیں گے تو کیا ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اسٹار لنک لائسنس کے لئے سیکورٹی کلئیرنس لے گا جو ابھی زیرالتوا ہے۔سٹارلنک کی ٹریفک گیٹ ویز کے ذریعے ہوگی۔ اسٹارلنک نے کہا تھا کہ وہ حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کریں گے۔ اسٹار لنک نے کہا ہے کہ وہ سسٹم کو بائی پاس نہیں کریں گے۔جب حکومت کہے گی تو سروس بند کرنے کے پابند ہوں گے۔

چیئرپرسن کمیٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ  ایلون مسک نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کیا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان کیخلاف بہت ساری ٹویٹس کی ہیں۔

انوشہ رحمان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان مخالف مؤقف اختیار کیا۔پچھلے دنوں میڈیا پر ایک بار پھر ہائیپ پیدا ہوئی۔حکام وزارت آئی ٹی کا کہنا تھا کہ ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ کیا جس کے بعد یہ معاملہ پھر اٹھا۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ایلون مسک کے بیانات کو بھارت نے بہت اچھالا۔ قائمہ کمیٹی نےایلون مسک کے بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک کی سرگرمیاں پاکستان مخالف ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ صرف اسٹار لنک نہیں تمام ایل ای اوز کی درخواستوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Watch Live Public News