ویب ڈیسک: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ ریٹنگز نے انڈر کریٹیریا آبزرویشن (UCO) سے ریٹنگز ہٹائے جانے کے بعد پاکستان کی طویل المدتی قرضہ ریٹنگ ’B-‘ پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ پاکستان کو ’RR4‘ کی ریکوری ریٹنگ بھی دی گئی ہے۔
فِچ کے مطابق یہ فیصلہ ستمبر 2025 سے نافذ کیے گئے نئے سوورن ریٹنگ کریٹیریا کے تحت کیا گیا ہے، جن کے تحت پہلی مرتبہ خودمختار قرضہ ریٹنگز میں ڈیفالٹ کی صورت میں ریکوری کے امکانات کو شامل کیا گیا ہے۔
فِچ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کے سینئر غیر محفوظ طویل المدتی قرضہ ریٹنگز کو پاکستان کی طویل المدتی غیر ملکی کرنسی ایشوئر ڈیفالٹ ریٹنگ (IDR) کے برابر رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان پر سرکاری قرضوں اور آمدن کے مقابلے میں سودی ادائیگیوں کا بلند بوجھ اور ڈیفالٹ کی صورت میں اوسط درجے کی ریکوری کے امکانات ہیں۔
واضح رہے کہ 15 اپریل 2025 کو فِچ نے پاکستان کی طویل المدتی غیر ملکی کرنسی IDR کو ’CCC+‘ سے بڑھا کر ’B-‘ کیا تھا اور آؤٹ لک مستحکم رکھا گیا تھا۔
فِچ کے مطابق گورننس سے متعلق ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی (ESG) عوامل بھی ریٹنگ کے اہم محرکات میں شامل ہیں۔ سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی معیار اور کرپشن کنٹرول کے حوالے سے پاکستان کو ’5‘ کا اسکور دیا گیا ہے، جبکہ ورلڈ بینک گورننس انڈیکیٹرز میں پاکستان 22ویں پرسنٹائل پر ہے۔
ریٹنگ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتی قرضوں اور قرضوں کی ادائیگی میں کمی کا عمل متاثر ہوا یا بیرونی مالیاتی صورتحال خراب ہوئی، مثلاً آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر کی صورت میں، تو ریٹنگ دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
تاہم فِچ کے مطابق اگر مالیاتی اصلاحات کے ذریعے حکومتی قرضوں میں نمایاں کمی، ٹیکس آمدن میں بہتری اور بیرونی فنانسنگ کے خطرات میں مزید کمی آئی، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا، تو مستقبل میں ریٹنگ میں بہتری کا امکان بھی موجود ہے۔