غزہ اور شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائی، ٹرمپ کاناراضگی کا اظہار

غزہ اور شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائی، ٹرمپ کاناراضگی کا اظہار
کیپشن: غزہ اور شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائی، ٹرمپ کاناراضگی کا اظہار

ویب ڈیسک: وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے غزہ اور شام میں کی گئی فضائی کارروائیوں پر حیران اور ناراض ہوئے، اور دونوں مواقع پر فوری طور پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ترجمان کیرولائن لیوٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرمپ کو غزہ میں کیتھولک چرچ پر حملے اور دمشق میں شامی سرکاری عمارتوں پر بمباری سے مایوسی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا کہ وہ چرچ پر حملے کو "غلطی" قرار دے کر وضاحت جاری کریں۔

ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تشدد پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مزید جانیں ضائع نہ ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا، جب کہ ٹرمپ نے شام کے نئے صدر کی حمایت کرتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کی ہے۔

غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی ٹرمپ نے نیتن یاہو کے حالیہ وائٹ ہاؤس دورے کے دوران سنجیدہ کوششیں کیں، تاہم اسرائیلی وزیراعظم کسی حتمی معاہدے کے بغیر واپس روانہ ہو گئے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کوششوں کے باعث ہی غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکی ہے، جبکہ ٹرمپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ تمام اقدامات پرامن طریقے سے ہونے چاہئیں۔

ترجمان لیوٹ کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سابق امریکی حکومت کی کمزوری کا نتیجہ لگتی ہے، تاہم وہ اس پیچیدہ بحران کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Watch Live Public News