ایئر انڈیا حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ نے مزید سوالات کو جنم دے دیا

ایئر انڈیا حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ نے مزید سوالات کو جنم دے دیا
کیپشن: ایئر انڈیا حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ نے مزید سوالات کو جنم دے دیا

مزیدتفصیلات: جون میں پیش آنے والے ایئر انڈیا فلائٹ 171 کے ہولناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ کچھ حد تک وضاحت فراہم کرے گی، مگر اس کے برعکس رپورٹ نے نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق15 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق، پرواز کے چند ہی لمحوں بعد بوئنگ 787 طیارے کے دونوں فیول کنٹرول سوئچز اچانک "کٹ آف" پر چلے گئے، جس سے انجنز کو فیول کی فراہمی رک گئی اور طیارہ طاقت سے محروم ہو گیا۔ یہ عمل عام طور پر لینڈنگ کے بعد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کاک پٹ وائس ریکارڈر میں ایک پائلٹ دوسرے سے سوال کرتا ہے کہ "تم نے فیول کٹ آف کیوں کیا؟" اور دوسرا جواب دیتا ہے کہ "میں نے نہیں کیا۔" مگر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بات کس نے کی۔

طیارہ اڑان بھرنے کے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں احمد آباد شہر کے ایک رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے بعد عالمی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں، جن میں بعض نے سینئر پائلٹ پر توجہ مرکوز کی۔ تاہم، بھارتی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) نے ان رپورٹس کو "غیر مصدقہ اور غیر ذمہ دارانہ" قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فیول کٹ آف سوئچز کو کس نے اور کیوں بند کیا۔ ممکن ہے یہ انسانی غلطی ہو، کوئی تکنیکی خرابی ہو یا پھر خودکار نظام نے غلط سگنلز پر عمل کیا ہو۔

امریکی ادارہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) اور بھارتی پائلٹس ایسوسی ایشنز نے بھی میڈیا کی جلد بازی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حتمی رپورٹ کے آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں صرف ایک جملہ شامل کیا گیا ہے، جبکہ مکمل کاک پٹ ریکارڈنگ اور پرواز کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ حتمی رپورٹ میں شامل کیا جائے گا، جو آئندہ سال متوقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحقیق کا محور دو امکانات پر ہے: یا تو پائلٹس کے درمیان کوئی غلط فہمی ہوئی، یا پھر فیول کٹ آف جان بوجھ کر کیا گیا۔ تاہم، ابھی کوئی واضح نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

تحقیقاتی ادارے AAIB کا مؤقف ہے کہ فی الحال یہ رپورٹ صرف بتاتی ہے کہ "کیا ہوا"، نہ کہ "کیوں ہوا"۔ اس راز سے پردہ شاید کبھی مکمل طور پر نہ اٹھ سکے۔

Watch Live Public News