ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ، امریکا نے چین سے مدد مانگ لی

 ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ، امریکا نے چین سے مدد مانگ لی

ویب ڈیسک: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے کہا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔
اسلامی جمہوریہ کے حکام کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے نتائج کے بارے میں خبردار کرنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’میں چینی حکومت کی حوصلہ افزائی کروں گا، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اس معاملے پر (ایرانی حکام) سے رابطہ کرے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کو ’ایک اور خوفناک غلطی‘ قرار دیا جس کا مطلب ایران کے لیے ’معاشی خودکشی‘ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس طرح کے اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے آپشنز موجود ہیں لیکن دوسرے ممالک کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان کی معیشتوں کو امریکہ سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔
 مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا موجودہ کشیدگی میں ایک ’بڑی اضافہ‘ سمجھا جائے گا جس کے لیے واشنگٹن اور دیگر کی جانب سے ردعمل کی ضرورت ہوگی۔

آبنائے ہرمز عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ ہے اور یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، 2023 کی پہلی ششماہی میں، اس آبنائے کے ذریعے عالمی منڈیوں میں تقریباً دو کروڑ بیرل تیل (عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد) برآمد کیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران امریکہ کے ساتھ ’کھیل کھیلنے‘ کی کوشش کی جس کہ وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کارروائی کرنے پر مجبور ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو سول نیوکلیئر پروگرام کی اجازت دینے کی پیشکش کی تھی لیکن ’انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔‘

Watch Live Public News