ویب ڈیسک: مصطفی عامر قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان نے اعترافِ جرم سے انکار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، جہاں اس نے جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کردیا۔
مرکزی ملزم ارمغان نے عدالت میں کہا کہ پولیس مجھ سے زبردستی بیان دلوانا چاہ رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے شریک ملزم شیراز بھی مجسٹریٹ کے روبرو اعترافِ جرم کرنے سے انکار کرچکا ہے۔
دوسری جانب مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نامزد ملزمان ارمغان اور شیراز کی حب سے کراچی واپسی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں دونوں ملزمان کو ایک گاڑی میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ویڈیو ان کے حب سے کراچی واپسی کے سفر کے دوران کی ہے جس میں وہ واضح طور پر گاڑی کے اندر نظر آ رہے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مصطفیٰ عامر کو زندہ جلا کر قتل کرنے کے بعد کچھ فاصلہ پیدل طے کیا اور پھر کراچی واپسی کے لیے 3ہزار روپے دے کر ایک گاڑی میں لفٹ لی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ارمغان اور شیراز کو ہمدرد چوکی روڈ سے گزرتے ہوئے ایک گاڑی میں دیکھا گیا، جس کے بعد وہ فور کے چورنگی کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔
مرکزی ملزم ارمغان نے مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، پھر اسے اس کی اپنی ہی گاڑی کے ڈِگی میں بند کر کے حب لے گیا، جہاں اس کا وحشیانہ قتل کیا گیا۔
اس سے قبل پولیس نے مرکزی ملزم ارمغان کے والد کامران اصغر قریشی کو گرفتار کر لیا تھا۔ یہ گرفتاری ارمغان کے ڈیفنس خیابانِ مومن میں واقع گھر پر چھاپے کے دوران عمل میں لائی گئی تھی۔