قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ، وزیراعظم ایف بی آر کے مشکور

قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ، وزیراعظم ایف بی آر کے مشکور

ویب ڈیسک:وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی کارکردگی پر اجلاس، وزیراعظم نے 34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پذیرائی، وزیراعظم شہباز شریف نے مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل طلب کر لیا۔

اجلاس میں وزیراعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات سے متعلق بریفنگ دی گئی، حکومتی ٹیم کے ان مقدمات کی ریکوری کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ  دی۔

چیئرمین ایف بی آر نے وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ آف لاء کی اصلاحات، ٹیکس جانچ کیلئے ڈیجیٹل ایلگوریدھم، ٹیکس افسران کی کارکردگی کی جانچ کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت پوری قوم آپکی قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے پر مشکور ہے، فیصلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ریکوری قابل ستائش اقدام ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ایسے بہترین نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ محنت و لگن سچی ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے، یہ تاریخی کام آپ جیسی محنتی ٹیم کے ساتھ ہی ممکن تھا، 34.5 ارب کی ریکوری ایک اچھی شروعات ہے لیکن ابھی ہمارا سفر شروع ہوا ہے.

ہمیں مستقل بنیادوں پر ایک پائیدار نظام تشکیل دینا ہے،دہائیوں کی خرابیوں کو ہمیں مل کر ٹھیک کرنا ہے، ایف بی آر کی ریکوریوں کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر مربوط قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے، ایف بی آر کے حوالے سے اصلاحات و ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی ایک لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کیا جائے۔

ایف بی آر کی افرادی قوت کی بہتری کیلئے ایک پلان تشکیل دیا جائے، سو فیصد ڈیجیٹائیزیشن، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور مسلسل نگرانی سے ہی نظام میں بہتری آئے گی،ایسے افسران و اہلکار جو کسی بھی قسم کی خردبرد میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف بھرپور کاروائی عمل میں لائی جائے.

 وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اچھی کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی ستائش بھی یقینی بنائی جائے، اگر ہمیں پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی نا گزیر ہے، عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کیلئے جس قدر ہوسکا، کوشش کریں گے.

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، مشیرِ وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوصال، سیکیرٹری اطلاعات عنبرین جان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور ڈائیریکٹر جنرل  انٹیلیجینس بیورو فواد اسداللہ خان شریک تھے.

Watch Live Public News